۹ از ۷۱
حضرت داؤدؑ کو پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کا علم دیا اور حضرت سلیمانؑ کو چوپایوں اور پرندوں کی بولی کا علم عطا کیا۔ علم کے متعلق قرآن میں ایک اور واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
سورۃ النمل آیت ۳۷ سے ۴۳۔ (پارہ ۱۹)
پلٹ جا اُن کی طرف تو ضرور ہم ان پر وہ لشکر لائیں گے جن کی انہیں طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم اِن کو شہر سے ذلیل کر کے نکال دیں گے یوں کہ وہ پست ہوں گے سلیمانؑ نے فرمایا اے درباریوں تو تم میں کون ہے کہ وہ اسکا تخت میرے پاس لے آئے قبل اسکے وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں ایک بڑا خبیث جن بولا کہ میں وہ تخت حضور میں حاضر کر دونگا قبل اسکے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور بیشک اس پر قوت والا امانت دار ہوں۔ اسنے عرض کیا جسکے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کرونگا ایک پل مارنے سے پہلے پھر جب سلیمانؑ نے تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا اور کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بے پرواہ ہے سب خوبیاں والا۔ سلیمانؑ نے حکم دیا عورت کا تخت اسکے سامنے وضع بدل کر بیگانہ کر دو کہ ہم دیکھیں کہ وہ راہ پاتی ہے یا اِن میں ہوتی ہے جو ناواقف رہے پھر جو وہ آئی اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے بولی گویا یہ وہی ہے اور ہم کو اس واقعہ سے پہلے خبر مل چکی اور ہم فرمانبردار ہوئے اور اسے روکا اس چیز نے جسے وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی بیشک وہ کافر لوگوں میں سے تھی۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے درباریوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہوا تھا ایک درباری جن کا نام آصف بن برخیا تھا اسکو اللہ تعالیٰ نے اسم اعظم کا علم عطا کیا تھا پلک جھپکتے ہی آصف بن برخیا نے بلقیس صبا کا تخت حضرت سلیمانؑ کے سامنے حاضر کر دیا یہ علم بھی پڑھنے لکھنے یا سیکھنے سے نہیں آیا بلکہ یہ علم اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانؑ کے درباری اور وزیر ہونے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام وکرام تھا۔ اور یہ کہنا غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم صرف اپنے انبیاءؑ تک ہی محدود رکھا تھا بلکہ انبیاءؑ کے ساتھیوں کو بھی علم عطا کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں