۸ از ۷۱
تو اسکی مزدوری ان گاؤں والوں سے لے سکتے تھے خضرؑ نے کہا بس مجھ میں تم میں جدائی کی گھڑی آن پہنچی (آپؐ نے فرمایا اللہ موسیٰؑ پر رحم کرے ہم تو چاہتے تھے کاش موسیٰؑ صبر کرتے ان کے اور حالات ہم سے بیان کیے جاتے)۔
یہاں تک آپؐ نے واقعہ بیان کیا قرآن شریف میں آگے ان باتوں کا مطلب بیان کیا گیا وہ یہ ہے۔
حضرت خضرؑ نے فرمایا اَب میں آپ کو ان باتوں کا (پھیر) مطلب بتاؤنگا جن پر آپ کو صبر نہ ہوسکا وہ جو کشتی تھی وہ کچھ محتاجوں کی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں اور ان کے پیچھے ایک بادشاہ تھا کہ ہر ثابت کشتی زبردستی چھین لیتا اور وہ جو لڑکا تھا اسکے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ ان کو سرکشی اور کفر پر چڑھاوے تو ہم نے چاہا کہ اِن دونوں کا رب اس سے بہتر ستھرا اور اس سے زیادہ مہربانی میں قریب عطا کرے، رہی وہ دیوار وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانا نکالیں آپ کے رب کی رحمت سے اور یہ سب کچھ میں نے اپنے حکم سے نہ کیا یہ بھید ہے ان باتوں کا جس پر آپ سے صبر نا ہوسکا دیکھئے حضرت خضرؑ کو کس قسم کا علم تھا اور یہ علم پڑھنے لکھنے سے نہیں آتا یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے جس کو جتنا چاہے عطا کرتا ہے حضرت خضرؑ نے یہ بھی بتایا کہ جسکو اللہ جتنا چاہے علم عطا کرتا ہے حضرت خضرؑ نے یہ بھی بتایا کہ مجھے اور حضرت موسیٰؑ کو جتنا علم اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے وہ اتنا ہی ہے جتنا ایک چڑیا نے سمندر سے پانی پیا ہو اور حضرت خضرؑ نے بچے کو جان سے مارا یا دیوار کھڑی کی ہے یہ تمام اللہ تعالیٰ کی رضا سے کیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضرؑ کا بھی اللہ تعالیٰ سے رابطہ تھا کیونکہ پیغمبر اللہ تعالیٰ کی رضا کے بغیر کسی کی جان کیسے لے سکتے ہیں اور پھر غیب کا علم وہ بھی اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔
علم کے متعلق قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اور بیشک ہم نے داؤدؑ اور سلیمانؑ کو بڑا علم عطا فرمایا۔
سورۃ النمل آیت ۱۵۔ (پارہ ۱۹)’’
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں