۱۰ از ۷۱
بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم اور اُتارتا مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی بیشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے۔
سورۃ سجدہ آیت ۳۴ (پارہ ۲۱)
اللہ تعالیٰ جسکو چاہے علم غیب کی خبر بتا دیتا ہے اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ غیب کا علم اللہ ہی کو ہے اور اللہ ہی جسکو چاہے نواز دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰؑ کو کھلی نشانیاں دیں اور پاکیزہ روح سے اسکی مدد کی۔
سورۃ البقرۃ آیت ۲۵۳ (پارہ ۳)
اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو مردے کو زندہ کرنا۔ بیماروں کو تندرست کرنا مٹی سے پرندہ بنانا غیب کی خبریں دینا کا علم عطا کیا تھا۔
غیب کے علم کی ایک اور مثال:
یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں۔
آیت ۴۴ سورۃ ال عمران (پارہ ۳)
غیب کے علم کی ایک اور مثال:
پھر اس نے ایک نگاہ ستاروں کو دیکھا پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں تو وہ اس پر پیٹھ دے کر پھر گئے۔
آیت ۸۸ سے ۹۰ سورہ الصّفّت (پارہ ۲۳)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابرہیمؑ کو ستاروں کا علم عطا کیا تھا اُنہوں نے ستاروں کو دیکھ کر اپنے بیمار ہونے کا حال معلوم کر لیا تھا۔
آپؐ کے زمانے میں لوگ آپؐ سے غیب کے متعلق بے مقصد باتیں پوچھا کرتے تھے جو آپؐ پر گراں گزرتا تھا ایک روز آپؐ نے فرمایا جو جو دریافت کرنا ہو تو دریافت کرو میں ہر بات کا
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں