تعارف
حضرت سید احمد حسین گیلانیؒ، جو «محبوبِ ذات» کے لقب سے جانے جاتے ہیں، بیسویں صدی کی عظیم روحانی ہستیوں میں سے ہیں۔ آپؒ سلسلۂ عالیہ قادریہ کے بزرگ ہیں اور آپؒ کا آستانہ دربارِ عالیہ منڈھیر شریف سیداں، ضلع سیالکوٹ آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔
آپؒ کی کنیت «ابو محمد» ہے، جو آپؒ کے سب سے بڑے صاحبزادے حضرت سید محمد افضال احمد حسین گیلانیؒ کے نام سے ہے۔ آپؒ کے القاب مؤید الدین، محبوبِ ذات اور نور اللہ ہیں، اور تخلص «عاجزؔ» ہے۔ مریدین آپؒ کو محبت سے «سرکارِ عالی» کہتے ہیں۔
ولادت اور خاندان
آپؒ ۱۲ ربیع الاول ۱۳۱۴ھ (اگست ۱۸۹۶ء)، بروزِ جمعہ منڈھیر شریف سیداں میں پیدا ہوئے۔ دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ آپؒ کی ولادت کا دن بھی وہی ہے جو حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت کا دن ہے، اور آپؒ کی زندگی کا ہر عمل آپ ﷺ کی سنت سے مماثلت رکھتا تھا۔
آپؒ حسنی سید ہیں۔ آپؒ کا نسب حضرت غوث الاعظم شیخ سید عبدالقادر جیلانیؒ کے واسطے سیدنا امام حسنؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ و سیدہ فاطمہ الزہراءؓ کے ذریعے حضور نبی کریم ﷺ تک پہنچتا ہے، جیسا کہ «شجرہ شریف» میں درج ہے۔
منڈھیر سیداں کی بستی بھی اسی خاندان کی یادگار ہے۔ گیلانی سادات کے ایک خاندان نے یہ ساری زمین خرید کر یہاں سکونت اختیار کی، لوگوں کو بلا کر مفت گھر دیے اور صدیوں تک اسلام کی تبلیغ کی۔ اسی سے منڈھیر کلاں، منڈھیر خورد اور منڈھیر کوٹھے کی تین بستیاں آباد ہوئیں اور بستی «منڈھیر سیداں» کہلائی۔ اس خاندان میں بہت سے اولیاء اللہ پیدا ہوئے۔
