۷ از ۷۱
وقت ان کے خادم نے کہا آپؐ نے نہیں دیکھا جب ہم سحرے کے پاس پہنچے تھے تو مچھلی نکل بھاگی میں اس کا ذکر کرنا بھول گیا تھا موسیٰؑ نے کہا ہم تو اسی کی تلاش میں تھے آخر وہ دونوں کھوج لگاتے ہوئے اپنے پاؤں کے نشانوں پر لوٹے جب اس سحرے کے پاس پہنچے دیکھا ایک شخص سو رہا ہے کپڑے لپیٹے ہوئے موسیٰؑ نے اس کو سلام کیا خضرؑ جاگ اُٹھے انھوں نے کہا میں موسیٰؑ ہوں خضرؑ نے کہا بنی اسرائیل کے موسیٰ انھوں نے کہا ہاں پھر کہا کیا میں تمھارے ساتھ رہ سکتا ہوں اس شرط پر کہ تم کو جو علم کی باتیں سکھائی گئی ہیں وہ مجھ کو سکھلاؤ خضرؑ نے کہا تم سے میرے ساتھ صبر نہ ہو سکے گا موسیٰؑ بات یہ ہے کہ اللہ نے ایک قسم کا علم مجھ کو دیا ہے جو تم کو نہیں ہے اور تم کو ایک قسم کا علم دیا ہے جو مجھکو نہیں دیا ہے موسیٰؑ نے کہا اگر خدا چاہے تو تم ضرور مجھ کو صبر کرنے والا پاؤ گے۔ اور میں کسی کام میں تمھاری نافرمانی نہیں کرونگا۔ آخر دونوں سمندر کے کنارے روانہ ہوئے ان کے پاس کشتی نہ تھی کہ سمندر پار جائیں اتنے میں کشتی ادھر سے گذری انھوں نے کشتی والوں سے کہا ہم کو سوار کر لو خضرؑ کو انھوں نے پہچانا اور موسیٰؑ اور خضرؑ کو بے کرایہ سوار کیا اتنے میں ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پہ بیٹھ کر ایک یا دو چونچیں سمندر میں ماری خضرؑ نے کہا موسیٰؑ میرے اور تمھارے علم دونوں نے اللہ کے علم میں سے اتنا لیا جیسے اس چڑیا کی چونچ نے سمندر میں سے پانی۔ اسکے بعد خضرؑ کشتی کے تختوں میں سے ایک تختے کی طرف چلے اور اُسکو اکھیڑ ڈالا حضرت موسیٰؑ کہنے لگے ان لوگوں نے ہم کو بغیر کرایہ سوار کیا اور تم نے یہ کام کیا کہ ان کی کشتی میں سوراخ کر دیا کشتی والوں کو ڈوبانا چاہا خضرؑ نے کہا میں تمہیں کہہ چکا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں ہونے کا موسیٰؑ نے کہا بھول چوک پر میری گرفت نہ کرو اور میرے کام کو مشکل میں نہ پھنساؤ (آپؐ نے فرمایا یہ پہلا اعتراض تو موسیٰؑ کا بھولے سے ہی تھا) خیر پھر دونوں چلے ایک لڑکا لڑکوں میں کھیل رہا تھا اسکا سر تھاما اور اپنے ہاتھ سے اسکا سر اوکھیڑ لیا موسیٰؑ نے کہا تو نے ایک مصوم جان کا ناحق خون کیا خضرؑ نے کہا میں نے تم سے نہیں کہا تھا تم سے میرے ساتھ صبر نہیں ہونے کا (ابن عیینہؒ نے کہا یہ پہلے کلام سے زیادہ سخت ہے) خیر پھر دونوں چلتے چلتے ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے ان سے کھانا مانگا انہوں نے کھانا کھلانے سے انکار کیا پھر دونوں نے دیکھا اس گاؤں میں ایک دیوار ہے جو گرا چاہتی ہے خضرؑ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور دیوار کو سیدھا کر دیا حضرت موسیٰؑ نے کہا تم چاہتے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں