۶۹ از ۷۱
پھر یہ کہ علامہ اقبال اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور انعام وکرام سے آشنا تھے تبھی وہ ان اشعار میں خدا سے دعا کررہے ہیں کہ اسکی زیارت سے شادماں کرے۔اسی نظم کے اشعار ہیں۔ وہ شمع بارگہ خا ندانِ مرتضوی رہے گا مشلِ حرم جس کا آستاں مجکو نفس سے جس کی کھلی میری آرزو کی کلیبنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجکو دعا یہ کر کہ خداوندِ آسمان و زمینکرے پھر اس کی زیارت سے شادمان مجکو اِس کلام کے آخری بند میں اپنے قلب کے کھلنے کی یا مقامِ فقر کی التجا کرتے ہیں شگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائےیہ التجائے مسافر قبول ہوجائے پھر علامہ اقبال شیخ مجددؒ کی قبر پر حاضری دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کی عرض یہ میں نے عطا فقر ہو مجھ کو آنکھیں مری بینا ہیں لیکن نہیں بیدار آئی صدا سلسلہ فقر ہو ا بند اوپر کے تین اشعاروں سے معلوم ہوتا ہے کے علامہ کی آنکھیں بیدار یعنی روشن تھی اور مقامِ فقر کا انہیں تھا علم تھا تبھی وہ مقامِ فقر
مانگ رہے تھے اور ایک بات اور سامنے آئی کہ علامہ آنکھیں روشن ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب مزار کی آواز بھی سن سکتے تھے تبھی تو یہ کہ رہے ہیں کہ آئی صدا سلسلہ فقر ہوابند۔ اتنی مہربانی تھی لیکن مقامِ فقر حاصل نہیں ہوسکا ایک ہستی کا علا مہ کو علم تھا کے اس ہستی کے وسیلے سے مقامِ فقر حاصل ہو سکتا ہے وہ ہستی سیالکوٹ کے قصبہ منڈیر شریف میں موجود تھی جنہوں نے اپنے آپ کو چھپا رکھا تھا اور اگر علامہ کو معلوم ہو جاتا تو سارے جہاں کو معلوم ہوجاتا اور یہ اللہ تعالیٰ ابھی نہیں چاہتے تھے اسی لئے محبوبِ ذات نے اپنے آپ کو پردہ میں رکھا ہوا تھاعلامہ نے اس ہستی کی تلاش اورناکامی کے بعد یہ اشعار کہے۔ کھبی اے حقیقتِ منتطر، نظر آلباسِ مجاز میںہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں