۷۰ از ۷۱
تعالیٰ کے حبیب ہیں یہ مقام کسی اور کو حاصل نہیں ہوسکتا۔دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ محبوبِ ذات کا ہر عمل آپ ﷺ سے مماثلت رکھتا تھا آپ کی عمر بھی آپ ﷺ کی طرح ۶۳ سال تھی محبوبِ ذات آپ ﷺ کی طرح ۱۲ ربیع الاول کو پیدا ہوئے ہیں اور آپؒ بھی حبیبِ خدا کی طرح تیز تیز چلتے تھے غرض کہ آپؒ کا ہر عمل اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا کھانا پینا وغیرہ وغیرہ سب حبیبِ خدا ﷺ کی سنت کے مطابق تھا۔محبوبِ ذات کے مریدوں اور خلفاء حضرات نے ہی صرف کرامتیں اور معجزات ہی نہیں دیکھے بلکہ دربار محبوبِ ذات میں آنے والے لوگوں نے بھی کرامتیں دیکھی ہیں اور یہاں تک کہ دربار شریف آنے والے لوگوں سے وابستہ افراد نے بھی کرامتیں دیکھی ہیں جو کرامتیں لکھی گئی ہیں وہ بہت ہی کم ہیں اِن کرامتوں اور فیض کا سلسلہ محبوبِ ذات کے اول نورِ نظر جناب سید افضال احمد شاہ صاحبؒ نے محبوبِ ذات کے پردہ کرنے کے بعد بھی جاری وساری رکھا بلکہ بہت زور شور سے جاری رہا اِن کے مرید لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں انکے پردہ کرنے کے بعد بھی محبوبِ ذات کے دوئم نورِ نظر جناب حضرت سید اقبال احمد شاہ صاحبؒ سے محبوبِ ذات کی کرامتیں جاری وساری ہیں۔حضرت محبوب ذات کے بیٹے حضرت سید امجد حسینؒ اسلام آباد میں دین کے حوالے سے قرآن اور سنت کی روشنی میں بیان دیتے ہیں کہ سننے والے دنگ رہ جاتا ہیں یہاں بھی لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے جس میں سادات حسینی کے گھرانے کے علاوہ دوسرے مسلک کے لوگ بھی سننے آتے
[ناخواندہ سطر]
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں