۶۶ از ۷۱
افتخار صاحب نے اپنے ابا حضور سے بارش کے لئے دعا فرمانے کے لئے گزارش کی آپؒ نے ارشاد فرمایا کہ بارش کا کوئی امکان نہیں ہے اسی لئے تو آپ سے گذارش کی ہے آپؒ نے ایک منٹ کے بعد ارشاد فرمائے بیٹا سید قبلہ کی طرف دیکھو تو کوئی بدلی(بادل کا ٹکڑا) ہے انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹی سی بدلی ہے آپ نے آپنے بیٹے کو اپنے پاس بیٹھا لیا۔ پانچ منٹ کے بعد وہ چھوٹی سی بدلی سارے آسمان پر پھیل گئی پہلے بوندا باندی ہوئی اور پھر زور دار بارش ہوئی آپؒ نے ارشاد کیا کہ بیٹا اب تو روزہ ٹھنڈا ہوگیا ہے۔ ۔۱۷ ستمبر ۱۹۵۰ کو منڈہیر شریف سیالکوٹ میں سیلاب آیا اورنو فٹ پانی کی لہر کی یلغار تھی اور پانی آہستہ آہستہ دربار شریف کی طرف بڑھ رہا تھا حکومت لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچا رہی تھی دربار عالیہ میں فوجی جوان آے کشتیوں سے لوگوں کو لے جانے کے لئے لیکن لوگوں کی نظریں محبوبِذات پر تھیں آپؒ نے ارشاد فرمایا اللہ پر بھروسہ کرو پھر آپ پانی کی طرف بڑھے آپؒ نے اپنے دست مبارک سے اپنے اعصا مبارک کو پانی میں گاڑ دیا۔ دیکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ پانی تقریباً پندرہ فٹ پیچھے ہٹ کر اپنا رُخ بدل گیا۔ مشاہدات:۔ ۔ماسٹر بشیر احمد عزیز بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت بلال حبشیؓ اور خلفائے راشدین کی زیارت کی خواہش تھی میں روزانہ محبوبِ ذات سے التجائیں کرتا رہتا تھا ایک دن مجھے نماز فجر میں ایسی غنودگی آئی کہ میں نے دیکھا کہ ایک قالین آسمان سے زمین تک بچھا ہوا تھا تمام مخلوق دو قطاروں میں کھڑی بہت بے چینی سے سرکارِ دو عالم حضرت محمدﷺ کا انتظار کررہی تھی۔ میں اور رائو محمد مختار صاحب اگلی قطار میں کھڑے ہیں ایک شخص سفید لباس میں ملبوس رائو صاحب کے پاس آیا اسے پچھلی قطار میں کھڑا کردیا۔ وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ ننگے سر درور پڑھنے والے اگلے صف میں کھڑے نہیں ہوسکتے( اس واقعہ کے بعد رائو سے پوچھا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ واقعی وہ درود شریف ننگے سر پڑھتے تھے)۔ میں نے چند قدم کے فاصلے پر ایک دراز قد سفید عربی لباس میں ملبوس داڑھی مبارک چھوٹی گھنگریالی موٹے موٹے ہونٹ رنگ سیاہ حضرت بلال حبشیؓ مسکراتے ہوئے نظر آئے حضرت
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں