۶۵ از ۷۱
۔خادم حسین صدیقی صاحب نے فرمایا کہ حضرت محبوبِ ذات نے ترقی کے لئے دعا دی اور پھر فرمایا کہ جائو جی اللہ تعالیٰ نے آپ کو سارے بنکوں کا افسر بنادیا حالانکہ اس وقت میں امپریل بنک میں ایک معمولی کلرک تھا لیکن خود بخود اسے حالات بنتے گئے کہ الائیڈ بنک کے سر براہ اور بینکیگ کونسل کے ممبر بھی ہوئے ۱۹۷۷ میں بنکاری کا سب سے بڑا اعزازمظفر میموریل گولڈ میڈل دیاگیا۔ ۔خلیفہ حسرت علی شاہ ایک چشم دید ۱۹۳۷ انبالہ کا واقعہ بیان کیا کہ ایک سخص جو بارہ سال سے چارپائی پر تھا آپ کے پاس لایا گیا آپ نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس مریض کو شفا دی وہ اپنی ٹانگوں سے چل کر گیا۔ ۔ایک فوجی جمعدار نور حسین صاحب میرٹھ سے انبالہ آکر آپؒ سے بیعت کی اور جانے کی اجازت طلب کی لیکن اسکو تین مہینے کے بعد اجازت ملی وہ ڈرتے ڈرتے جب چھائونی پہنچا تو حیران رہ گیا کیوں کسی نے اسکی غیر حاضری کا نہ پوچھا بلکہ اسکو مبارک باد دی کہ کل جنرل صاحب نے آپ کی پریڈ سے خوش ہوکر صوبیدار بنادیا ہے جبکہ نو ر حسین کو کوٹ مارشل کا ڈر تھا اندازہ کریں کہ نور حسین کی جگہ تین ماہ تک کون ڈیوٹی دیتے رہے۔ ۔۱۹۲۱ میں حسن ابدال کے مقام پر ایک سکھ نے نے آپؒ سے سوال کیا کہ آپ قرآن شریف پڑھتے ہیں آپ کو کیا فائدہ ملا آپؒ نے بڑے تحمل سے جواب دیا کہ اس کتاب نے میرا دین اور دنیا دونوں سنوار دی ہیں اس سکھ نے پوچھا کہ اس کتاب میں ہر چیز ہے آپؒ نے فرمایا کے ہاں پھر سکھ نے پوچھا اس میں سونا بنانے کا طریقہ ہے آپؒ نے فرمایا ہاں سکھ نے کہا پھر بنائیں آپؒ نے لوہے کا ٹکڑا لانے کو کہا سکھ نے لوہے کا ٹکڑا آپؒ کو پیش کردیا آپؒ نے فرمایا کہ اسکو اپنے ہاتھوں میں تھامے رکھو آپؒ کی نگاہِ کرم سے وہ لوہا سونا بن گیا تمام سکھ حیران ہو گئے اور قدموں میں گر گئے ایک سکھ لالچی تھا اس نے کہا کہ جو عمل آپ نے کیا ہے وہ عمل آپ ہمیں بتادیں آپؒ نے فرمائے کہ بتانے میں حرج نہیں لیکن احمد حسینؒ کی نگاہ کہاں سے لائو گے وہ سکھوں کا پورا خاندان آپؒ کے ہاتھوں مسلمان ہوا۔ ۔رمضان شریف میں سخت گرمی تھی حضرت محبوبِ ذات کے تیسرے بیٹے حضرت سید
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں