۶۴ از ۷۱
یہ خرقہ حضرت علیؓ سے حضرت امام حسنؑ اور حضرت امام حسین ﷺ سے منتقل ہوتا ہواتمام امامین اور غوث الاعظمؒ سے منتقل اور زیب تن کرتے ہو ئے حضرت محبوب ذاتؒ تک پہنچا اور آپ نے اسے زیب تن کیا۔ یہ خرقہ آج بھی دربار شریف میں موجود ہے اور اِس خرقہ کی دربار شریف میں موجودگی سے دراصل دوسرے تمام درباروں سے افضلیت حاصل ہوتی ہے اور محبوب ذات کا مقام بھی معلوم ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو مقامِ محبوبیت عطا کی ہے وہ بھی کنفرم ہوجاتی ہے کیوں کہ یہ خرقہ مبارک صرف محبوبین نے زیب تن کیا ہے یہاں اللہ تعالیٰ کی مہربانی بھی زیادہ ہے یہی وجہ ہے کہ یہاںسے وابسطہ مریدوں کے معاملات بہت زیادہ ہیں اور کافی مرید مقامِ فقر میں موجود ہیں اِس خرقہ مبارک کو لانے والے جو مدینے میں تشریف رکھتے تھے اور انکا تعلق حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے خاندان سے تھا اور ایک عربی تھے انکے خواب میں آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ نے حضرت محبوب ذات کی شبہیہ مبارک دکھائی اور فرمایا کہ ہندوستان کے ایک شہر سیالکوٹ میں جا کر یہ خرقہ مبارک انہیں عطا کیا جائے اور وہ عربی بہت تلاش کے بعد آپ تک پہنچے اور خرقہ مبارک آپ کو عطا کیا آپ نے زیب تن کرکے محبوبیت کی مہر شبت کردی یہ پاکستاں کی خوش قسمتی ہے کے اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک محبوب کو پاکستان میں پیدا کیا ہے اور قیمتی خرقہ مبارک پاکستان میں موجود ہے۔ پھر اس عربی نے کہیں اور جانا پسند نہیں کیا اور نہ واپس اپنے گھر گئے بلکہ وہ حضرت محبوبِ ذات کے پاس رہے اور یہیں فوت ہوئے اور انکی قبر بھی یہیں سیالکوٹ میں موجود ہے۔ کرامت:۔ ۔صوفی اسماعیل صاحب گوجرانوالہ جو خلیفہ محبوبِ ذات ہیں انہوں نے فرمایا کہ دربار محبوبِ ذات میں حاضر تھا کہ اطلاع ملی کہ انکا بچہ بہت بیمار ہے تو صوفی صاحب نے محبوبِ ذات سے اجازت لی اور گھر سے لڑکے اور اسکی ماں کو گھر سے دربار شریف لے آیا لیکن اس دوران بچہ فوت ہوگیا آپ کو جب معلوم ہوا تو آپ جلال میں آگئے اور ارشاد فرمایا گیارویں شریف کا مبارک موقعہ ہے اس رات کو یہ حادثہ نہیں ہونا چائیے آپ بچے کے پاس آئے اور ارشاد فرمایا اُ ٹھو اللہ کے حکم سے اتنا کہنا تھا کہ بچہ زندہ ہوگیا۔ بچہ ابھی تک زندہ ہے اور شادی شدہ ہوچکا ہے۔ ۔خادم
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں