۶۳ از ۷۱
آپؒ طفولیت۔ آپ بچپن میں اپنے تمام گھروں کی بالائی نوش فرماتے تھے یہ بات خاندان کو گوارہ نہ تھی آپ نے بالائی کھانا چھوڑدی۔نتیجہً تمام گھروں میں مکھن نکلنا بند ہو گیا۔پھر سب کی منت سماجت کے بعد بالائی نوش فرمانے لگے تو پھر سے مکھن پہلے کی طرح وافر مقدار میں نکلنے لگا۔ ۔استاد نے جب الف سے آم پڑھایا تو آپ نے الف سے اللہ پڑھا تو استاد بہت حیران ہوئے آج تک کسی طالب علم نے ایسا نہیں کیا تھا۔ ۔آپ کے کانوں میں سونے کی بالیاں ڈالی ہوئی تھیں جسکو دیکھ کر ایک کھلونے بیچنے والی نے حسرت بھری نگاہ سے کہا کہ کاش میں بھی اپنی بیٹی کو دلاسکوں آپ نے یہ سن کر وہ بالیاں اس کو دے دیں۔ ۔آپ اپنی جیب خرچ غریب طالب علم ساتھیوں میں تقسیم کردیتے تھے۔ خرقہ مبارک:۔ رسولِ خدا حضرت محمد ﷺ کو معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے ایک خرقہ مبارک عطا کیا تھا اور اللہ تعالی نے حکم دیا تھا کہ صحابہ کرام میں سے کسی ایک کو ایک سوال کے صیح جواب پر یہ خرقہ ان صحابی کو عطا کردیں۔آپﷺ نے سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے مخاطب ہوکر فرمائے کے اے ابو بکر اگر میں یہ خرقہ تجھے دے دوں تو کیا کرے۔عرض کی کہ میں صدق اختیار کروں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کروں اور جو دنیاوی مال میرے پاس ہے سب راہِ خدا میں صرف کروں۔ آپ ﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ عدل کروں اور بندگانِ خدا سے انصاف سے پیش آئو ں اور مظلموں کی داد دوں۔ اور پھر آپ ﷺ نے حضرت عشمانؓ کو مخاطب کرکے فرمائے کہ اگر خرقہ تجھے عنایت کروں تو تم کیا کرو گے عرض کی کہ اتفاق سے ملِ جل کر کام کروں گا اور جو حق ہو اسے بجا لائوں۔حیا اختیار کروں، اور سخاوت کروں۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت علیؓ سے دریافت کیا تو عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں پردہ پوشی کروں اور بندگان خدا کے عیب پوشیدہ رکھوں رسولِ خدا نے فرمایا کہ اے علیؓ یہ خرقہ میں تجھے دیتا ہوں اور مجھے پرور دگار کا حکم بھی یہی تھا کہ یاروں میں سے جو بھی یہ جواب دے گا خرقہ اسے دے دینا (راحت قلوب)۔
یہ متن مصنف کی اپنی ٹائپ شدہ (InPage) فائل سے لیا گیا ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں