۶۱ از ۷۱
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نکلا ہم نے دیکھا کہ ایک ہاتھ غیب سے برآمد ہوا اور اسنے جہاز کو کھینچ کر کنارے پر لگادیا۔طلباء نے اس واقعہ کی تاریخ پوچھی تو وہی تھی۔جس دن آپؒ نے بھیگی ہوئی آستین اپنی چادر سے نکالی تھی۔
ایک دن سیدنا غوث الاعظمؒ وعظ فرما رہے تھے آپ کے منبر کے قریب ہی شیخ علی بن ابی نصر الہیتیؒ بیٹھے تھے دورانِ وعظ ان کو نیند آگئی سیدنا غوث الاعظمؒ اس وقت خاموش ہوگئے اور منبر سے نیچے اتر کر شیخ علیؒ کے سامنے مودبانہ کھڑے ہوگئے اتنے میں وہ پسینے میں تر بتر خواب سے بیدار ہوگئے۔آپؒ نے فرمایا شیخ علی تم اس وقت آقائے دو جہاں ﷺ کو خواب میں دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے کہا بے شک، آپؒ نے فرمایا یہی وجہ تھی کہ میں منبر سے اتر کر باادب کھڑا ہوگیا تھا۔لیکن یہ تو بتاؤ۔حضور ﷺ نے تم سے کیا فرمایا شیخ علیؒ نے عرض کیا۔حضور ﷺ نے مجھے تاکید فرمائی کہ ہمیشہ عبدالقادر جیلانیؒ کی خدمت میں رہنا۔لوگ بہت متحیر ہوئے اور شیخ علیؒ سے پوچھا کہ سیدنا غوث الاعظمؒ کو کیسے معلوم ہوگیا کہ آپ سردار کونین ﷺ کے دربار میں حاضر ہیں۔شیخ علیؒ نے جواب دیا کہ میں جو کچھ خواب میں دیکھ رہا تھا حضرت غوث الاعظمؒ بہ عالم بیداری میں دیکھ رہے تھے۔
(نوٹ: ایک بات جو بتانا بہت ضروری ہے کہ جو بھی مسلمان حضرت غوث پاکؒ کو نہیں مانتا ہے وہ مسلمان مومن بن ہی نہیں سکتا ہے کیونکہ مسلمانوں کا ایک فرقہ چہاردہ مصومین کے بعد حضرت غوث پاکؒ کو نہیں مانتا ہے اس لئے وہ لوگ مومن بن ہی نہیں سکتے اِس لئے اِس فرقے کے مسلمانوں کے پاس سے وہ خوشبو اب نہیں آتی ہے جو پہلے کے مسلمانوں کے پاس سے آتی تھی کیونکہ شیطان نے اِن مسلمانوں کو بتایا ہے کہ حضرت غوث پاک اور اماموں میں جھگڑا ہوا تھا جب کے حضرت غوث پاکؒ اور امام میں کئی سو سال کا فرق تھا اور حضرت غوث پاک ہیں انہی کی آل سے پھر جھگڑا کس سے اور کس بات کا ہے یہ سب شیطانی کھیل ہے اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا فرما امین)
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں