۵۳ از ۷۱
بھی اوپر نہیں جاتا یہاں تک کہ رسول ﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ درود پیش نہ کیا جائے۔) لیکن بہت سے لوگ اور بہت سے مسجد کے امام درود نہیں پڑھتے ہیں اب غور کیجیے اس حدیث کی رو سے کہ دعا کا کیا حال ہوتا ہوگا۔
القول البدیع کی ایک اور حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی دعا ایسی نہیں کہ اس میں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان پردہ نہ ہو مگر جب کوئی شخص مجھ پر درود پاک پڑھتا ہے تو اس درود پاک کی برکت سے وہ پردہ ہٹ جاتا ہے اور دعا درود کے ہمراہ بارگاہ الٰہی میں درجہ قبولیت پر پہنچتی ہے اور اگر کوئی شخص دعا مانگنے کے ساتھ مجھ پر درود نہیں بھیجتا تو اس کی دعا الٹی لوٹ کر آ جاتی ہے۔ ۱۴۔ عاجزی میں رہنا۔ تمام اولیاء کرام عاجزی اختیار کرتے ہیں اور آپ ﷺ کی سنت ہے اور اللہ تعالیٰ بھی عاجزی کا درس دیتا ہے نماز کو دیکھے نماز کے ہر ارکان سے مسلمانوں کو عاجزی کا درس ملتا ہے لیکن بڑے بڑے علماء اور مسجدوں کے امام پہلے سلام کرنا تو درکنار محبت سے بھی پیش نہیں آتے ہیں۔ ۱۵۔ اللہ تعالیٰ کی اور آپ ﷺ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ حاکم وقت کی بھی اطاعت کرنا (سورۃ النساء پارہ ۵ آیت ۵۹ اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول ﷺ کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو) لیکن دیکھے آج جتنی بھی مذہبی جماعتیں ہیں وہ یہ آیت قرآنی سمجھتے ہی نہیں ہیں بلکہ حاکم وقت کے خلاف روڈ پر مظاہرہ کرتے ہیں اللہ اور اسکے رسول سے رجوع نہیں کرتے مسجدوں میں حاکم وقت کی برائی کرتے ہیں یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں۔ ۱۶۔ اللہ ھو، لا الہ الا اللہ، اللہ ھو کا ذکر کرنا۔ ۱۷۔ تمام اولیاء کرام نماز میں ہاتھ ناف پر باندھتے ہیں اور جماعت میں حی الصلاح، حی الصلاح پر کھڑے ہو کر صفیں درست کرتے ہیں۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں