۵۲ از ۷۱
(اب دیکھے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے تہجد گذار مسلمان کی حمد کراتے ہیں تو ہمیں رسول ﷺ کی شان میں نعت اور سلام پڑھنے میں کیوں بدعت نظر آتی ہے)۔ ۱۰۔ محمد ﷺ کے نام پر درود شریف پڑھنا (ترمذی کی حدیث ہے کہ بخیل وہ ہے جسکے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ درود نہ بھیجے۔ ۱۱۔ محمد ﷺ کے نام پر درود شریف پڑھنے کے علاوہ اپنے ناخنوں کو چوم کر اپنے آنکھوں کو لگانا (کافی کتابوں میں روایت ملتی ہے جب حضرت آدم ؑ کو محمد ﷺ کے وسیلے سے معافی حاصل ہو گئی تو حضرت آدم ؑ نے اللہ تعالیٰ سے اپنے پیارے محمد ﷺ کا نور دکھانے کی گذارش کی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کا نور حضرت آدم ؑ کے ہاتھ کے ناخنوں پر دکھایا تو آپ ؑ نے فوراً ان ناخنوں کو چوم کر اپنے آنکھوں پر لگایا۔ ہم بھی تو حضرت آدم ؑ کی اولاد ہیں اور ہمارے پاس بھی وہی پاک ناخن ہیں جس پر آپ ﷺ کا نور دکھایا گیا تھا آج بھی حضرت آدم ؑ کی یہ سنت جاری ہے اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند ہے کہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔ ۱۲۔ تعویز دینا اور پانی دم کرنا (جب انسان بیمار ہو جاتا ہے تو کسی ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو کوئی شرک نہیں ہے اور غیر ممالک میں آپ یہودی اور غیر مسلم سے علاج کراتے ہو تو اس وقت شرک نہیں اور غیر محرم سے علاج کراتے ہو تو شرک نہیں لیکن جب کسی ولی سے تعویز لیا جاتا ہے تو وہاں شرک نظر آتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں درست اور صحیح کی تمیز عطا کر اور اگر کوئی تعویز گلے میں ڈالتا ہے تو کہتے ہیں کہ اللہ پر بھروسہ نہیں ہے لیکن جب انسان بیمار ہوتا ہے تو اللہ پر کیوں بھروسہ نہیں کرتا پھر ڈاکٹر کے پاس کیوں جاتا ہے اور الٹی سیدھی دوائی کیوں لیتا ہے آپ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اِس دوائی میں کیا ہے ایک صاحب کا کہنا ہے کہ دوائی کا معلوم ہو جائے تو دوائی کھانا چھوڑ دیں گے جبکہ تعویز اللہ تعالیٰ کے کلام سے بنایا جاتا ہے۔) ۱۳۔ دعا سے پہلے اور آخر میں درود پڑھنا (ترمذی کی حدیث ہے حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتی ہے اس میں سے کچھ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں