۵۱ از ۷۱
تیاری کی جاتی ہے اور یہی خوشی زمین پر مسلمان عرس کے طور پر مناتے ہیں اب یہ مسلمان اپنے کلچر کے لحاظ سے مناتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہربانی حاصل کرتا ہے۔ (مسلمان اپنی خوشی میں کیا کیا کرتا ہے وہاں فتویٰ نہیں آتا ہے کہ یہ شرک ہے اور بدعت ہے)۔ ۷۔ ربیع الاول میں اور خاص طور پر ۱۲ ربیع الاول زور شور سے مناتے ہیں جب ولی کے عرس پر اتنی مہربانی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے حبیب کے ولادت کے دن کتنی مہربانی ہوتی ہوگی اسکو حاصل کرنے کے لئے کثرت سے درود و سلام اور نعت خوانی محفلیں منعقد کرنا۔ ۸۔ گیارہویں شریف کرنا یا منانا۔ گیارہویں شریف کیا ہے اور گیارہویں شریف کیوں منائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پندرہویں محبوب حضرت غوث الااعظم دستگیر ؒ کو جب معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ چاند کی ۱۰ تاریخ کو بہت جلال میں ہوتے ہیں آپ نے سوچا کہ کیا عمل کیا جائے جس سے اللہ تعالیٰ کا جلال کم ہو جائے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے کہ کسی بھوکے کو کھانا کھلایا جائے تو آپ ؒ نے ہر چاند ۱۰ تاریخ کی شام سے مسافروں کو کھانا کھلانا شروع کر دیا اور کھانا رات تک جاری رہتا تھا جسکی وجہ سے چاند کی ۱۱ تاریخ لگ جاتی تھی اِس لئے گیارہویں کا کھانا کہلانا شروع ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کو یہ عمل اتنا پسند آیا کہ اللہ تعالیٰ نے گیارہویں شریف ساری دنیا میں جاری کر دیا (ویسے حضرت غوث الااعظم ؒ کا وصال بھی گیارہ ربیع الثانی کو ہوا اور اِس طرح یہ عرس منانے کا موقع مل جاتا ہے اور ڈبل ثواب حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔) ۹۔ رات کو عبادت کرنا اور تہجد کی نماز باقاعدگی سے پڑھنا اور صبح کو قران پڑھنا (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اور صبح کا قرآن بیشک صبح کے قرآن میں فرشتے آتے ہیں اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لئے زیادہ ہے قریب ہے تمہیں تمہارا رب اسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔
سورۃ بنی اسرائیل آیت ۷۸ اور ۷۹
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں