۵ از ۷۱
اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خاص لوگوں کی طرف اِشارہ کیا ہے اُن لوگوں کی طرف جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام واکرام کی بارش کی احسان (انعام وکرام) کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اِن لوگوں پر احسان (انعام وکرام) اس لئے کیا کہ کیونکہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے سیدھے راستے پر رکھا ہوا ہے اُن مسلمانوں کی تلاش کرنی چاہیئے جن پر اللہ کا کرم ہوا ہے۔ تاکہ پوچھا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیا احسان (انعام) کیا اور آپ نے کیا عمل کیا تاکہ دوسرے بھی آپ کی تقلید کر کے احسان (انعام) کے حقدار ہو جائیں لیکن اس کے لئے احسان یافتہ (انعام یافتہ) مسلمانوں کو تلاش کر کے اپنا رہبر بنانا ہوگا تاکہ دین پہ صحیح طور پر عمل کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں پر احسان کیا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کافی جگہ بیان فرمایا ہے وہ احسان یا انعام واکرام ‘علم’ ہے جو کہ اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے یہ علم سیکھنے سے پڑھنے سے نہیں آتا بلکہ یہ علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام واکرام کے طور پر غیب سے ملتا ہے۔ یہ وہی علم ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو عطا فرمایا ہے۔
تو سب سے بلند ہے اللہ سچّا باد شاہ اور قرآن میں جلدی نہ کرو جب تک اُس کی وحی پوری نہ ہولے اور عرض کرو اے میرے رب مجھے زیادہ علم دے۔
سورۃ طٰہٰ آیت ۱۱۴ (پارہ ۱۶)
حضرت جبرائیلؑ قرآن کریم کی آیت لے کر نازل ہوتے تو آپؐ حضرت جبرائیلؑ کے ساتھ ساتھ پڑھتے اور جلدی کرتے تھے تاکہ خوب یاد ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کو اچھا نہیں لگا کہ میرا حبیب محنت کرے اِس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپؐ مشقت نہ اُٹھائیں صرف یہ دعا کریں۔
"اے میرے رب مجھے زیادہ علم دے"
یعنی آپؐ کی اس دعا کرنے سے تمام آیات یاد ہو جاتیں اور اِس آیت کے تمام رموز سے اللہ تعالیٰ واقف کر دیتے تھے تبھی اُدھر آیت آتی اور اِدھر آپؐ عمل کر کے بتا دیتے کہ مسلمانوں کو اِس طرح عمل کرنا ہے۔ علم کے موضوع پر بات کرنے سے پہلے مسلمان سورۃ بقرہ کی پہلی آیت غور سے پڑھیں۔ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ قرآن کے شروع ہی میں دے رہے ہیں اِسلئے اِس کی بڑی اہمیت ہے۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں