۴ از ۷۱
اور ان میں سے ایک لاکھ مکرر سمجھ کر ترک کر کے تین لاکھ احادیث کو یکجا کیا اور پھر تین لاکھ احادیث کی کافی عرصہ تک جانچ پڑتال کی اور ان میں جو احادیث ہر اعتبار سے مستند ثابت ہوئیں تو ان تین لاکھ احادیث میں صرف ۱۲ ہزار سے کچھ زیادہ احادیث انتخاب کیں اور ان کو صحیح مسلم شریف میں درج کیا اور باقی چھوڑ دیں جبکہ آپؐ کی تمام زندگی کا ہر عمل ایک مسلمان کے لئے دین ہے۔ دین میں اتنے فرقے بننے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مکمل احادیث موجود نہیں ہیں اور دوسری وجہ قرآن اور اِنہی احادیث کو پڑھ کر اور اپنی سوچ سمجھ کے مطابق دین پر کار بند ہیں مختلف سوچوں کی وجہ سے آج مختلف فرقے بن گئے ہیں آج مسلمان کو اپنے دین کے متعلق کوئی علم اور سمجھ نہیں ہے کہ دین کیا ہے اور کس سے دین سمجھنا چاہیے۔ اَب دیکھیے کہ مسلمانوں کا کتنا بڑا المیہ ہے کہ اپنے علاقے میں جو مسجد یا مدرسہ یا کوئی ادارہ ہے یہ بیچارے معصوم مسلمان بغیر کچھ سوچے سمجھے اس مسجد یا مدرسہ کے امام یا معلم کو اپنا رہبر بنا لیتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے ہیں کہ یہ امام یا معلم دین کا امام یا معلم ہے یا کسی فرقہ کا امام یا معلم ہے بس اسی سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور اسی کو دین سمجھتے ہیں اور غیر دانستہ اس فرقہ کے رکن بن جاتے ہیں دوسرا ماحول کا بڑا اثر ہے اب دیکھئے کہ مسلمان اندرون سندھ میں نماز کس طرح پڑھ رہے ہیں اِن مسلمانوں کی عادتیں اور رسم رواج سب کچھ ہندوں کی طرح ہوگئی ہیں اور یہاں تک کہ نماز تک پڑھنے نہیں آتی ہے تو ان مسلمانوں کو جس طرف چاہو اسی طرف جھک جاتے ہیں یہ المیہ ہے آج مسلمان دین سے اتنے دُور ہوگئے ہیں جتنا پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے یہ اس لئے کہ آج بے حساب مسلمان دین کے رہبر بن گئے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں لوگوں کو ہدایت کے لئے راستہ بتا دیا ہے اور رہبر کے متعلق بھی بتا دیا ہے لیکن شیطان اس آیت کو سمجھنے اور پڑھنے نہیں دیتا ہے اب کوئی بتاتا بھی ہے تو شیطان مختلف خیالات سے سمجھنے کا موقع ختم کر دیتا ہے اگر مسلمان قرآن کی آیتوں کو غور سے پڑھتے اور سمجھتے تو شاید آج یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں سیدھا راستہ پر چلنے والے لوگوں کے متعلق فرما دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں فرمایا ہے۔
ہم کو سیدھے راستے پر چلا راستہ اُن کا جِن پر تونے احسان کیا۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں