۴۸ از ۷۱
نسبت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں کیا یہ نسبت کم ہے صحیح راستے کے تعین کے لئے۔ آج بھی مسلمان وہی عمل کر رہے ہیں جو یزید نے کیا تھا یزید کی بھی یہ غلطی تھی کہ اس نے آل رسول ﷺ کو اپنی بیعت کے لئے کہا لیکن حضرت امام حسین ؓ نے اپنے نانا کے دین کو بچانے کے لئے اپنے پورے خاندان کو قربان کر دیا کیا اس لئے کیا کہ آج بھی یزیدی مقاصد پورے ہوں۔ یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ امام حسین ؓ نے اتنی بڑی قربانی کیوں دی اصل میں دین کے امام، بادشاہ حضرت امام حسین ؓ ہی ہیں کیوں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’میں علم کا شہر ہوں اور علی ؓ اسکا دروازہ‘‘ اسی لیے حضرت امام حسین ؓ ہی دین کے رہنما، رہبر، بادشاہ اور امام ہیں لیکن یزید جو کہ حکمرانی کرتے کرتے دین کی حکمرانی بھی کرنا چاہتا تھا جو کہ ناممکن تھا جس کی وجہ سے حضرت امام حسین ؓ کو بیعت کا پیغام بھیجا۔ یزید حضور کی حدیث کا منکر ہوا۔ دراصل یزید کی بیعت شیطان کی بیعت ہے اور یزید کی امامت شیطان کی امامت ہے حضرت امام حسین ؓ سے بیعت نبی ﷺ سے بیعت ہے یہ ہے فرق۔ لیکن مسلمان مسلسل آلِ رسول ﷺ کو درگذر کر کے اپنا رہبر کسی اور کو بنا رہے ہیں کسی اور رہبر بنانا اسی طرح ہے جس طرح یزید کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور یہی شیطان کی کامیابی ہے اور یہیں سے ۷۳ نہیں ۷۳۰۰۰ فرقے جنم لے چکے ہیں لیکن اولیاء کرام نے حضرت امام حسین ؓ کے نقش قدم پر چل کر اور اپنے مریدوں کو اس راستے پر چلا کر اسلام کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ جب تک کسی مسلمان کا قبلہ ہی درست نہیں ہوگا اسوقت تک راستہ کا تعین بھی صحیح نہیں ہوگا اور راستہ کا تعین صحیح نہیں ہوگا تو دین کا عمل کیسے صحیح ہوگا اور پھر جو عبادتیں کی جا رہی ہیں وہ کیسے صحیح ہوں گی اسی لئے مسلمان جو بھی نمازیں پڑھ رہا یا جو عبادتیں کر رہا ہے یا دین کی تعلیم دے رہا ہے یا دین کی تبلیغ کر رہا ہے یا دین کا کام کر رہا ہے کیسے اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول ہونگی کیونکہ اُن کے قبلہ کا ہی پتہ نہیں ہے کہ درست ہے کہ نہیں تو ایسی عبادت کا کیا فائدہ۔ لیکن ہر مسلمان کی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے اسی لئے اپنے ہر عمل کرنے سے پہلے اپنے قبلہ کو درست کیا جائے اور اپنے راستے کا تعین سورۃ فاتحہ کے مطابق کیا جائے اُنکے راستے پر جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام و کرام ہے اس کتاب میں بیان کر دی گئی ہیں اب اس کتاب میں کچھ اولیاء کرام کے متعلق تھوڑی سی تفصیل بتائی جا رہی ہے کہ یہ لوگ کن کی اولاد ہیں اور انکو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انعام و کرام بھی عطا کیا گیا ہے اِن
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں