۴۷ از ۷۱
سرُخ میں تھی کہ حضور ﷺ بحالت نماز قیام میں ہیں اور گرد آپ ﷺ کے اصحاب حضرت آدم ؑ نے ان تصویروں کو دیکھا یہ صندوق وراثتاً منتقل ہوتا ہوا حضرت موسیٰ ؑ تک پہنچا آپ ؑ اسمیں توریت بھی رکھتے اور اپنا مخصوص سامان بھی چنانچہ اس تابوت میں الواح توریت کے ٹکڑے بھی تھے حضرت موسیٰ ؑ کا عصاء اور حضرت ہارون ؑ کا عمامہ اور اِن کی عصاء اور تھوڑا سا من جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا حضرت موسیٰ ؑ جنگ کے مواقع پر اس صندوق کو آگے رکھتے تھے اِس سے بنی اسرائیل کے دلوں کو تسکین رہتی تھی (جیسے آیت میں بیان کیا ہے) اسکے بعد یہ تابوت بنی اسرائیل میں متوارث ہوتا چلا آیا جب انہیں کوئی مشکل درپیش ہوتی تو اس تابوت کو سامنے رکھ کر دعائیں کرتے اور کامیاب ہوتے دشمنوں کے مقابلہ میں اسکی برکت سے فتح پاتے جب بنی اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور انکی بدعملی بہت بڑھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے اُن پر عمالقہ کو مسلط کیا تو وہ ان سے تابوت چھین کر لے گئے اور اسکو نجس اور گندے مقامات میں رکھا اور اسکی بے حرمتی کی اور اِن گستاخیوں کی وجہ سے وہ طرح طرح کے امراض و مصائب میں مبتلا ہوئے اور ان کی پانچ بستیاں ہلاک ہوئیں اور انہیں یقین ہوا کہ تابوت کی اہانت انکی بربادی کا باعث بنی تو انہوں نے تابوت ایک بیل گاڑی پر رکھ کر بیلوں کو چھوڑ دیا۔ اور فرشتے اسکو بنی اسرائیل کے سامنے طالوت کے پاس لائے اور اس تابوت کا آنا بنی اسرائیل کے لیے طالوت کی بادشاہی کی نشانی قرار دیا گیا تھا بنی اسرائیل یہ دیکھ کر اسکی بادشاہی کے مقر ہوئے اور بے درنگ جہاد کیلئے آمادہ ہو گئے کیونکہ تابوت پا کر انہیں فتح کا یقین ہو گیا طالوت نے بنی اسرائیل میں ۷۰ ہزار جوان منتخب کئے جن میں حضرت داؤد ؑ بھی تھے (جلالین و جمل و خازن و مدارک وغیرہ)۔
غور کریں کہ کائنات کی پہلی تصویریں اللہ تعالیٰ نے خود بنائی ہیں اور پھر وہ صندوق جس میں انبیاء کرام کی چیزیں تھیں کتنی قابلِ احترام ہو گئی تھی کہ اُسکی اہانت یا اسکی بے حرمتی پر اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل فرمایا اور یہ صندوق سامنے رکھ کر فتوحات بھی حاصل کی جاتی تھیں اور صندوق جس کے پاس پہنچ جاتا اُسکی بادشاہی یقینی ہو جاتی تھی اللہ تعالیٰ کو اپنے پیاروں سے کتنی محبت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی تصویروں کو اور انکی چیزوں کا کتنا احترام کرواتا ہے اور انکی نسبت سے مسلمانوں کے کام ہو جاتے ہیں۔ اولیاء کرام کی نسبت یہ ہے کہ یہ لوگ آل رسول ﷺ ہیں اور دوسری
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں