۴۵ از ۷۱
عین الیقین میں آ جائے گا تو ایسی بات زبان پر کبھی نہیں لائے گا اور اولیاء کرام کا در کبھی نہیں چھوڑے گا۔ ایک اور بات واضح کر دی جائے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیارے اتنے عزیز ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیاروں کی تصویریں بھی بنا کر اپنے پہلے پیغمبر حضرت آدم ؑ کو دے دیں۔ لیکن آج لوگ تصویر کو حرام قرار دیتے ہیں جبکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کہیں تصویر کو حرام قرار نہیں دیا البتہ حدیث ہے کہ تصویر حرام ہے اب آپ غور کیجیے کہ آپ ﷺ کے زمانے میں اس طرح تصویریں کہاں بنتی تھیں۔ جس طرح آج بنائی جاتی ہیں آج کی تصویر عکس انسانی ہے آپ ﷺ کے زمانے میں لوگ بت بناتے تھے اس تصویر کو حرام قرار دیا گیا تھا کیونکہ اس تصویر یعنی بدھ کی پوجا کرتے تھے اسی لئے آپ ﷺ کے زمانے میں جو تصویر کپڑے پر بنائی جاتی تھی اس تصویر کو حرام قرار نہیں دیا تھا آج جو تصویریں بنائی جاتی ہیں وہ صرف پہچان کیلئے بنائی جاتی ہیں اور آج یہ تصویریں ضرورت بن گئی ہیں ایک طرف تو تصویر کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں دوسری طرف فتویٰ دینے والا شناختی کارڈ کے لئے اور پاسپورٹ کیلئے تصویریں بنوا رہا ہے اب بتائیے کہ تصویر حرام کا فتویٰ کہاں گیا یہ فتویٰ صرف دوسروں کے لیے ہے اور اپنے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی لکھوا لی ہے ایسی بات نہیں ہے جب کوئی چیز حرام ہے تو حرام ہے اس میں کوئی شک نہیں کرنا چاہئے کم علمی کی وجہ سے غلط بات پر فتویٰ دینا بالکل غلط ہے کیونکہ خود اس فتویٰ پر عمل نہیں کر سکتے ایک بات پر غور کیجیے جیسے شراب، سور کا گوشت حرام اُسی طرح غصہ بھی حرام ہے اور دن میں کتنی بار غصہ کرتے ہیں کوئی یہ بات یاد نہیں دلاتا ہے کہ بھائی غصہ حرام ہے اُسی طرح جس طرح سور کا گوشت کھانا حرام ہے اس بات پر کوئی فتویٰ یا ہدایت جاری نہیں کرتے کیونکہ خود بھی دن میں کئی مرتبہ غصہ کرتے ہوں گے یہ منافقت ہے اس لیے یہاں تحریر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تصویر کو حرام قرار دینے والے یہ کیوں نہیں سوچتے ہیں کہ تصویر بھی اُسی طرح حرام ہونا چاہیے۔ جس طرح سور کا گوشت کھانا ہے کیا بڑے بڑے علماء شناختی کارڈ کے لئے تصویر نہیں بنواتے ہیں یہ سب منافقت ہے کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں کچھ تو خدا کا خوف کریں۔ اللہ تعالیٰ جو فرما رہے ہیں اس پر غور ضرور کریں تو شاید کچھ سمجھ آ جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جو کوئی واقعہ بھی بیان کیا ہے وہ صرف کہانی کے طور پر نہ پڑھا جائے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمام واقعات جو بیان کیئے ہیں وہ صرف انسان کی بھلائی اور ہدایت کے لیئے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں