۴۴ از ۷۱
نے اللہ تعالیٰ سے رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اسکی تقدیر میں بچے نہیں ہیں آپ نے اس عورت سے کہا کہ تیری تقدیر میں بچے نہیں ہیں۔ کافی عرصے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کا گذر اس عورت کے گھر کے پاس سے ہوا تو کیا دیکھتے ہیں کہ اسکے پاس ۷ بچے کھیل رہے ہیں حضرت موسیٰ ؑ نے پوچھا کہ اے خاتون یہ بچے کس کے ہیں تو اس خاتون نے کہا یہ بچے میرے ہیں حضرت موسیٰ ؑ نے بہت حیران ہو کر پوچھا کہ تیری تقدیر میں تو بچے نہیں تھے تو یہ کیسے ممکن ہوا تو اس خاتون نے کہا کہ ایک فقیر سے دعا کرائی تھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک کی جگہ اتنے بچے عطا کر دئے ہیں اب حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے معلوم کرنے کے لئے وادی طوٰی پہنچے لیکن سوال کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے فرمایا کہ میرے لئے انسان کا گوشت لاؤ تو حضرت موسیٰ ؑ نے تلاش کیا تو اَیک انسان ایسا ملا جو اپنے جسم کے ایک حصہ کا گوشت کاٹنے لگا تو اسے خیال آیا کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کو کون سے حصے کا گوشت چاہیے اُس اللہ تعالیٰ کے بندے نے جسم سے مختلف جگہوں کا گوشت الگ کر کے حضرت موسیٰ ؑ کو دے دیا۔ اب حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا کہ یہ کیا ماجرہ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ ؑ اِس عورت نے اُسی آدمی سے دعا کرائی ہے جس نے اپنے جسم کا گوشت میرے لئے کاٹ کے دے دیا تھا تو میں اسکی دعا کیسے رد کر سکتا ہوں اے موسیٰ ؑ گوشت تو تم بھی دے سکتے تھے میں نے تو انسان کا گوشت مانگا تھا اب دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کی وجہ سے تقدیر اٹل بھی تبدیل کر دیتا ہے یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت اللہ تعالیٰ کے حبیب سے محبت اور اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ کی آل سے محبت جب اپنے گھر والوں سے زیادہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تقدیر اٹل بھی تبدیل کر دیتے ہیں جیسے آج انسان اپنے پیاروں کی خواہش پوری کرنے کے لئے اپنے اُصول بھی توڑ دیتا ہے یہ صرف سوچنے کی بات ہے اللہ تعالیٰ کا دین جو صرف انسانیت کی بہتری کے لئے ہے لیکن ہم مسلمان شیطان کی طرف سے دیئے گئے وسوسے سے شرک اور بدعت کے چکر میں پڑ کر اپنا بھی عمل خراب کرتے ہیں اور دوسرے کا عمل بھی اُسی طرح خراب کر رہے ہیں کیونکہ عاشق رسول ﷺ تو اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ کے عشق میں سلام بھی لکھ رہا ہے اور درود و سلام کی محفلیں بھی منعقد کر رہا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ ہیں اور دوسرا مسلمان شرک اور بدعت کا فتویٰ دے رہا ہے کیونکہ کہ وہ خود علم الیقین میں ہے اگر
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں