۴۳ از ۷۱
کے دیدار کے قابل بناتے ہیں اور ایک مسلمان کا یہ اَرمان اللہ تعالیٰ کے دوستوں کے ذریعہ ممکن ہو جاتا ہے یہیں مسلمان کی ترقی ہو جاتی ہے اور اس کا درجہ بلند ہو کر مومن ہو جاتا ہے کیونکہ مومن کا دل اور جسم اللہ کے ذکر میں مست رہتا ہے تبھی تو مومن کا اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا سونا جاگنا سب اللہ کے حکم کے مطابق اور سنت رسولﷺ کے مطابق ہو جائے گا۔ اور پھر یہی مومن اللہ کے دوستوں میں شمار ہو جائیں گے۔ پھر مومن کو اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کا وجود کتنا قریب نظر آئے گا۔
اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اسکا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہیں جب اس سے لیتے ہیں دو لینے والے ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں۔
سورۃ ق آیت ۱۶۔۱۷ (پارہ ۲۶)
اس آیت قرآنی کے مطابق اللہ تعالیٰ انسان کے شہ رگ کے قریب ہے اب سوچئے کہ انسان کے جسم میں کونسی جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ تشریف فرما ہوتے ہیں بقول اولیا کرام وہ انسان کا دل ہے جو دل کی رگ یعنی شہ رگ سے بھی قرب ہے یہ دل ہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا وجود محسوس ہو گا اور یہیں سے دل کی آنکھ کھلتی ہے اسی لئے اولیاء کرام ذکر الٰہی سے قلب کی صفائی کرتے ہیں کیونکہ انسان کا قلب دنیا کی برائیوں اور بداعمالیوں کی وجہ سے گندا ہو جاتا ہے کہ اس قلب میں اللہ کی جگہ شیطان بسیرا کر لیتا ہے اس لئے انسان کا ہر عمل شیطان کے اشارے پر ہوتا ہے شیطان ارکان اسلام ہی پورے کرنے نہیں دیتا ہے اولیاء کرام کے پاس اسی لئے جانے نہیں دیتا کہ کہیں کامل ولی یا کوئی مرد مومن کی نگاہ نہ پڑ جائے بقول علامہ اقبال:
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
بقول حضرت مجدد تقدیریں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک ہوتی ہے تقدیر مبرم یعنی اٹل تقدیر جو بہت کم ہوتی ہیں جیسے موت اور دوسری تقدیر معلق ہے یہ وہ تقدیر ہے افراد یا اقوام کے بدل جانے سے اِن کی تقدیر بدل جاتی ہے اسی لئے جب مسلمان کسی مرد مومن کے پاس پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیاوی اور دینی تقدیر بہتر کر دیتا ہے غور طلب واقعہ ہے کہ ایک خاتون نے حضرت موسیٰؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ مجھے اولاد نہیں ہوتی ہے میرے لئے دعاء کرو حضرت موسیٰؑ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں