۴۲ از ۷۱
ہیں کہ دیکھو میں قبر میں کس طرح انسانی اجساد کو زندہ رکھتا ہوں اور قبر میں ان اجساد کو کس طرح روزی دیتا ہوں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی بات پر غور نہیں کرتے ہیں۔ آپ اندازہ کیجیے کہ انسانی اجساد کے ساتھ ساتھ کفن بھی اللہ تعالیٰ خراب ہونے نہیں دیتا۔ یہ سب خدا کی قدرت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کرنا چاہئے کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو تو پھر ذاکرین کیسے مردہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ذاکرین کا مقام جہاد میں شریک مسلمانوں سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ ذاکرین کی انعام و کرام کے طور پر دل کی آنکھ کھول دیتے ہیں پھر آنکھیں روشن ہونے کی وجہ سے مشاہدات شروع ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کو محسوس اور دیکھنا شروع کر دیتا ہے یہ کہنا غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ نظر نہیں آ سکتے اور یہ کہنا بھی غلط ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ اللہ کی تجلی کو برداشت نہیں کر سکے تو ایک انسان کیسے دیکھ کر برداشت کر سکتا ہے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ مسلمان کس نبیﷺ کے اُمتی ہیں یہ کائنات جس کے طفیل سے وجود میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو معراج دی اور اپنا دیدار کرایا ہے۔ یہاں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو اپنا مکمل دیدار کرایا ہے اور وہاں تو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی تجلی دیکھائی تھی جو برداشت نہیں ہو سکی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو وہاں بلایا تھا جہاں حضرت جبرئیلؑ کو بھی جانیکی اجازت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ کے نور کو جب حضرت موسیٰؑ برداشت نہیں کر سکے تو اللہ تعالیٰ کے حبیبﷺ نے اللہ تعالیٰ کے دیدار کو کیسے برداشت کر لیا تھا دو باتیں سامنے آتی ہیں۔
نمبر ۱: یہ کہ نور کو نور نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے جیسے پانی کو پانی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے۔
نمبر ۲: بہت سے لوگ دنیا والوں کے لئے بہت جلالی ہوتے ہیں لیکن جب کیسی ہستی کو اپنا محبوب بنا لیتے ہیں تو اسکے اندر کا جلال اپنے محبوب کے دیدار سے کیسے پیار میں تبدیل ہو جاتا ہے تو پھر سوچئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ کو کیسے دیدار کرایا ہو گا اور پھر اللہ تعالیٰ اپنے حبیبﷺ کے اُمتی کو کیسے دیدار کرائے گا اسی طرح جیسے کسی انسان کے اپنے محبوب کے گھر والوں کے لئے دل میں جذبات پیدا ہوتے ہوں گے ویسے ہی اللہ تعالیٰ اپنے حبیبﷺ اور حبیبﷺ کے اُمتیوں کو دیدار کرا دیتے ہیں۔ ایک اور بات سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیبﷺ کی آل (اولیاء کرام) کو اپنا دیدار کراتے ہیں یہی اولیاء کرام اپنے مریدوں کے قلب اور روح کی صفائی کرا کر اللہ تعالیٰ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں