۴۱ از ۷۱
ترمذی کی دوسری حدیث ہے کہ:
صحابہ نے حضورﷺ سے دریافت کیا روز قیامت اللہ تعالیٰ کے نزدیک کن بندوں کا درجہ افضل ہے فرمایا بکثرت ذکر کرنے والوں کا صحابہ نے عرض کیا اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے والا فرمایا اگر وہ اپنی تلوار سے کفار و مشرکین کو یہاں تک ماریں کہ مارتے مارتے تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں رنگ جائے تب بھی ذاکرین ہی کا درجہ اس سے بلند ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ذاکرین کا مقام کتنا افضل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر جہاد میں شہید ہونے سے کہیں زیادہ ہے لیکن نہ تو کوئی عالم اس پر روشنی ڈالتا ہے اور نہ ہی ذکر الٰہی کا درس دیتا ہے اور نہ ہی ذکر الٰہی کراتے ہیں کیونکہ بڑے بڑے علماء اس ذکر کے صحیح طریقہ کار سے نا واقف ہیں یہ ذکر اولیاء کرام اپنے مریدوں کو سبق کی صورت میں کراتے ہیں یہ ذکر الٰہی اولیاء کرام کے سلسلے چشتیہ، نقشبندیہ، اور قادریہ میں اللہ ھوُ ، لا الہ الا اللہ اور اللہ ھو کی صورت میں کرایا جاتا ہے اولیاء کرام یہ سبق پہلے زبان سے کراتے ہیں پھر یہ ذکر بڑھتے بڑھتے خود بخود دل سے شروع ہو جاتا ہے اور یہ اللہ کا ذکر بڑھتے بڑھتے پورے جسم سے ہوتا ہے اور اگر یہ سبق مرتے دم تک جاری رہا تو مرنے کے بعد بھی یہ ذکر خود بخود جاری رہتا ہے اور اب سوچیے کہ مرنے والے کا جسم ذکر الٰہی میں رہے تو اسکا جسم کیسے خراب ہو سکتا ہے اور قبر میں وہ جسم بالکل محفوظ رہتا ہے۔ جیسے کہ امام مالک سے روایت ہے کہ جنگ اُحد کے چھالیس سال کے بعد حضرت عمرو بن جموع اور حضرت عبداللہ بن [ناخواندہ] کی قبر سیلاب کی وجہ سے کھل گئی تو ان کے اجساد طاہرہ یوں تر و تازہ اور شگفتہ و شاداب پائے گے جیسے انہیں کل دفن کیا گیا ہو۔ یہ شہید تھے شہیدوں کے اجساد کا یہ حال ہے تو ذاکرین کا کیا حال ہو گا کیوں کہ ذاکرین کا مقام شہیدوں سے افضل ہے پھر سوچئے کہ انبیاء کرامؑ، صحابہ کرام، امامین، صدیقین اور اولیاء کرام کے اجساد کیسے ہوں گے اللہ تعالیٰ تو ان کے اجساد کو محفوظ رکھتا ہے لیکن انسان ان اجساد کی قبروں پر بلڈوزر چڑھا کر مسمار کر دیتے ہیں کیونکہ شیطان کو یہ پسند نہیں ہے ان کے اجساد محفوظ رہیں اکثر اوقات اللہ تعالیٰ نے معجزے دکھائے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں