۴۰ از ۷۱
عبادت میں لطف آئے نیکی کا ذوق پیدا ہو اور نیکی کر کے جی خوش ہو۔ حقیقی روحانیت فکر کو چمکاتی ہے اور عمل میں سرگرمی پیدا کرتی ہے اور یہی روحانیت کی پرکھ ہے جو روحانیت ذہن میں ژولیدگی پیدا کرے اور عمل سے فرار سکھائے وہ سچی روحانیت نہیں۔ روحانیت میں ذکر ضروری ہے ذکر سے قلب کی صفائی اور تزکیہ نفس ہوتا ہے لیکن ذکر نماز کا بدل نہیں۔ ذکر مثل سالن ہے اور نماز روٹی کی مثل ہے اصل خوراک روٹی ہے لیکن سالن سے روٹی کی لذت میں اضافہ ہو جاتا ہے آپﷺ تا دم آخر نماز پنجگانہ کے پابند رہے۔ اس لئے ذکر کو نماز چھوڑ دینے کا بہانہ بنانا محض فریب نَفس ہے سب سے پہلے ذکر جہر میں لطف آنا شروع ہوتا ہے پھر ذکر خفی، پھر نوافل میں پھر سنتوں میں۔ پھر فرض نماز میں اور سب سے آخر میں نماز با جماعت میں روحانی مشاہدات اور قلبی کیفیات اس راہ کے انعامات ہیں، منزل مقصود ہرگز نہیں ہیں منزل مقصود اللہ تعالیٰ کا قرب، رضا، کیفیت اور احسان یعنی اللہ تعالیٰ کی موجودگی کا احساس یا حق تعالیٰ کی معیت ہے۔
ذکر کے متعلق جو بیان کیا گیا ہے یہ ذکر خالصتاً اللہ کا ذکر ہے اور یہ ذکر صرف اولیاء کرام ہی کراتے ہیں اس ذکر کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
اور بیشک اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے۔
سورۃ العنکبوت آیت ۴۵ (پارہ ۲۰)
حدیث القول البدیع (حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے):
جب لوگ کسی مجلس میں بیٹھے ہوں اور وہاں نہ اللہ کا ذکر کریں اور نہ آپﷺ پر درود پڑھیں روز قیامت کے دن وہ خسارے میں ہوں گے پھر اللہ چاہے تو انہیں عذاب میں مبتلا کرے یا انہیں بخش دے۔
ترمذی کی حدیث ہے کہ:
آپﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں وہ عمل جو تمہارے اعمال میں بہتر اور رب کے نزدیک پاکیزہ تر نہایت بلند رتبہ اور تمہارے لئے سونے چاندی دینے سے بہتر اور جہاد میں لڑنے اور مارے جانے سے بہتر ہے صحابہ نے عرض کیا بیشک یا رسول اللہﷺ فرمایا وہ اللہ کا ذکر ہے۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں