۳ از ۷۱
صحیح دین پر کار بند ہوگئے تو ان کا جینا دوبھر ہو جائے گا۔ صیہونی طاقتیں مسلمانوں سے دین میں مختاف راہیں بنوا کر مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑوا رہے ہیں اور مسلمان فرقوں کے نام پر ایک دوسرے کو قتل کررہے ہیں ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خبردار کیا ہے۔
" وہ جنھوں نے اپنے دین میں جداجدا راہیں نکالیں اور کئی گروہ ہو گئے اے محبوب تمھیں ان سے کچھ علاقہ نہیں ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انھیں بتا دیگا جو وہ کرتے تھے"
سورۃ الانعام آیت ۱۵۹ (پارہ ۸)
[ناخواندہ] حدیث شریف میں ہے۔
یہود ۴۱ فرقے ہو گئے ان میں سے صرف ایک ناجی ہے باقی سب ناری اور نصاریٰ ۷۲ فرقے ہو گئے ایک ناجی باقی سب ناری اور میری اُمّت میں ۷۳ فرقے ہو جائیں گے وہ سب کے سب ناری ہونگے سوائے ایک کے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صاف کہہ دیا ہے جو فرقے بنائے گا اُسے خود اللہ دیکھے گا اور آپؐ نے بھی کہا کہ ۷۳ فرقے ہو جائینگے سب کے سب ناری ہوں گے اور ایک صحیح ہوگا یعنی فرقے میں جو ہوگا وہ ناری اور جو فرقے سے الگ ہوگا وہ صحیح ہوگا لیکن یہ کہیں نہیں کہا کہ سارے فرقے کافر ہونگے تو مسلمان اِس میں اپنا وقت کیوں صرف کرتا ہے کہ کس طرح دوسرے فرقے کو کافر کہیں یہ تمام لوگ بہت خسارے میں ہیں آج کی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام فرقے ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہو کر یہ دیکھیں کہ ہم جو دین کی باتیں کررہے ہیں اس میں کیا غلطی کررہے ہیں اللہ تعالیٰ نے مکمل دین ہمیں عطا کیا ہے اور آپؐ کی ساری زندگی کے عمل مسلمانوں کے لئے بہترین نمونہ ہیں پھر فرقے کیوں اور کیسے پیدا ہوگئے ہیں جبکہ قرآن مکمل طور پر موجود ہے اور حدیث شریف مکمل نہیں تو اتنی احادیث موجود ہیں کہ صحیح دین پر چل سکتے ہیں نامکمل احادیث اس لئے لکھا ہے کیونکہ دیباچہ صحیح مسلم کے صفحہ ۸ پر درج ہے کہ حضرت امام مسلم نے چار لاکھ احادیث جمع کیں
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں