۳۸ از ۷۱
ہوا ہے کیونکہ پیر وہی ہوتا ہے جس سے ہدایت ملتی ہے چاہے بیعت کرے یا نہ کرے۔ لیکن اگر مسلمان قرآن اور احادیث سیکھنے کے ساتھ ساتھ کسی دین کے رکھوالے کو اپنا رہبر بنائیں گے تو دین میں کامیابی بھی ہو گی اور تسلی بھی ہو جائے گی کہ اب صحیح راستے پر گامزن ہیں کیونکہ ولی کی صحبت سے ہی مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ دین کی سمجھ دیتے ہیں۔ اور صحیح راستے کی نشاندہی آپ کے اپنے خوابوں سے شروع ہو جاتی ہے اور آپﷺ سے محبت مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہونا شروع ہو جائے گی۔ جو صرف زبان تک محدود تھی جب مسلمانوں کے دلوں میں آپﷺ کی محبت آ جائے گی تو مسلمان فقر کی قطار میں لگ جائے گا کیونکہ آپﷺ کی حدیث ہے کہ۔
ایک صحابی آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسولﷺ اللہ مجھے آپﷺ سے محبت ہے حضورﷺ نے فرمایا دیکھ کیا کہتا ہے انہوں نے پھر عرض کیا کہ مجھے آپﷺ سے محبت ہے حضورﷺ نے پھر ارشاد فرمایا جب تین مرتبہ یہ سوال و جواب ہوا تو حضورﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو فقر کے اوڑھنے بچھانے کیلیے تیار ہو جاؤ۔ اس لیے کہ مجھ سے محبت رکھنے والوں کی طرف فقر اسے زور سے دوڑتا ہے جیسا کہ پانی اُونچان کی طرف دوڑتا ہے۔
آپﷺ کی ایک اور حدیث ہے کہ۔
فقر مومن کا تحفہ ہے۔
فقر کی تعریف صرف اولیاء کرام ہی کرتے ہیں اور کوئی کر ہی نہیں سکتا ہے کیونکہ کسی دوسرے کو معلوم ہی نہیں وہ اِس فقر سے واقف ہی نہیں ہے فقر کی تعریف وہی کر سکتے جو اس مقام پر پہنچے ہوئے ہیں تو اولیاء کرام ہی جو اس مقام سے واقف ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب انسان کلمہ پڑھ لیتا ہے تو وہ انسان علم یقین کی بنیاد پر مسلمان ہو جاتا ہے یعنی اس انسان کو بتایا جاتا ہے کہ دین اسلام کیا ہے اور اللہ کون ہے اور آپﷺ کون ہیں ان باتوں پر یقین ہو جاتا ہے اور وہ انسان علم یقین کی وجہ سے مسلمان ہو جاتا ہے۔ ایک بچہ جو مسلمان کے گھر میں پیدا ہو جاتا ہے وہ بھی مسلمان ہی ہوتا ہے یعنی وہ علم الیقین میں ہوتا ہے یہ پہلی قسم ہے پھر جب دین کی راہ پر چلتا ہے اولیاء کرام کی سرپرستی میں تو اس مسلمان کو خواب کے ذریعے یا کھلی آنکھ سے مشاہدات شروع ہو جاتے ہیں جب
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں