۳۶ از ۷۱
راست ہر انسان کو ہدایت دے سکتے ہیں اِس میں اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے کائنات ایک طریقہ کار (سسٹم) بنایا ہے اسی طریقہ کار (سسٹم) کے تحت پوری کائنات متحرک ہے جیسے روزی دینے والا ہے تو اللہ ہی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بنائے ہوئے طریقہ کار (سسٹم) کے تحت دنیا میں ذریعہ بنایا ہے موت دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ کام (ڈیوٹی) ایک فرشتہ کے ذمہ لگائی ہوئی ہے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہدایت دینے کیلیے وسیلہ اپنے پیغمبروں کو بنایا ہے ایک بات اور غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت جبرئیلؑ کے ذریعہ قرآن کی آیت کو آپﷺ تک پہنچایا اور اُدھر آپﷺ عمل کر کے دکھا رہے ہیں نماز کو دیکھے نماز کا حکم آیا اور آپﷺ نے نماز پڑھا کر دکھائی نماز کس طرح پڑھنی ہے حکم اللہ کی طرف سے ہے طریقہ آپﷺ واضح کر رہے ہیں اسی طرح دین کا طریقہ ہمارے پاس موجود ہے لیکن سمجھنے کے لئے کسی نا کسی کی مدد ضرور لیتے ہیں اسمیں بالواسطہ اور بلا واسطہ (ڈائریکٹ ان ڈائریکٹ) کی بات کہاں ہے۔ کائنات کا سسٹم اللہ تعالیٰ کا ہی بنایا ہوا ہے اَب دیکھے حضرت موسیٰؑ کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کرانے کے لیے اللہ تعالیٰ وادی طویٰ میں بلاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ تو شہہ رگ سے بھی قریب ہیں یہ آگے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے کتنا قریب ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے پوری دنیا کے نظام کو چلانے کا طریقہ کار بنایا ہے یہ صرف سمجھنے کی بات ہے۔
اے موسیٰ بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار ڈال بیشک تو پاک جنگل طوٰی میں ہے۔
سورۃ طٰہ آیت ۱۲ (پارہ ۱۶)
دیکھے اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے اِس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اپنا دیدار کرانے کے لیے وادی طوٰی میں بلاتے ہیں اور اپنے دیدار کیلیے وادی طوٰی کو وسیلہ بنایا ہے۔
آپﷺ فرماتے ہیں:
اللہ کو جسکی بھلائی منظور ہوتی ہے اسکو دین کی سمجھ عنایت فرماتے ہیں اور میں بانٹنے والا ہوں دینے والا اللہ ہے اور یہ (اسلام کی) جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی دشمنوں سے اسکو کچھ نقصان نہ پہنچے گا یہاں تک
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں