۳۴ از ۷۱
سکتی ہے۔ اور رسولﷺ تک رسائی حاصل کرنے کیلیے حضرت علیؑ تک پہنچنے کا وسیلہ ڈھونڈنا ہو گا کیونکہ آپﷺ نے حج الوداع کے موقع پر فرمایا ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں۔ اسی دروازہ سے ہی رسولﷺ اور اللہ تک رسائی ممکن ہے یہی وسیلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اے ایمان والو اللہ سے دعاء کرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اسکی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔
سورۃ المائدۃ آیت ۳۵ (پارہ ۶)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بڑے واضح طور پر تین ہدایت دے رہے ہیں کہ ایک تو یہ کہا اللہ سے ڈرو دوسری ہدایت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور تیسری ہدایت یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ اللہ تعالیٰ خود چاہتا ہے کہ وسیلہ تلاش کریں تا کہ اللہ تک رسائی ممکن ہو سکے اور اللہ تعالیٰ جہاد کی تلقین بھی کر رہے ہیں جہاد دو قسم کے ہوتے ہیں ایک کفار کے خلاف جہاد ہے اور دوسرا جہاد جو جہاد افضل ہے وہ اپنے نفس کے خلاف جہاد ہے کیونکہ آپﷺ نے ایک جہاد جو کفار کے خلاف کر کے واپس آئے تو آپﷺ نے فرمایا کہ اب بڑے جہاد کے خلاف کھڑے ہونا ہے اور وہ جہاد نفس کے خلاف جہاد ہے کفار کے خلاف جہاد کی تیاری تو کرا دی جاتی ہے اور خوب درس بھی دیا جاتا ہے لیکن نفس کے خلاف جہاد کے لئے تیاری نہیں کرائی جاتی ہے جو کہ جہاد اکبر ہے اور اس جہاد کے لئے درس نہیں دیتے کیونکہ اس جہاد کے لئے چندہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے بلکہ اس جہاد میں تو اپنے پیٹ پر پتھر باندھنا ہوتا ہے اور دوسروں کی مدد کا درس بھی ہے یعنی خلقِ خدا سے بے لوث محبت اور خدمت وغیرہ۔
علم کے دروازے تک رسائی ممکن ہی اولیاء کرام کے وسیلے سے ہے اور انہی کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے سے دروازے تک پہنچ سکیں گے اگر راستہ ہی غلط ہو گا تو اللہ تک کیسے پہنچیں گے لیکن شیطان اس راستے کو اختیار ہی کرنے نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ کے پہلے پیغمبر حضرت آدمؑ نے بھی اللہ تعالیٰ سے معافی بھی وسیلہ سے ہی حاصل کی ہے۔
پھر سیکھ لئے آدم نے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اسکی توبہ قبول کی۔
سورۃ البقرہ آیت ۳۷ (پارہ ۱)
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں