۳۳ از ۷۱
کیونکہ رسول کا بلانا اللہ ہی کا بلانا ہے۔ بخاری شریف میں سعید بن معلیٰ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ:
میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا مجھے رسول اکرمﷺ نے پکارا میں نے جواب نہ دیا پھر میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسولﷺ اللہ میں نماز پڑھ رہا تھا آپﷺ نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ اللہ اور رسولﷺ کے بلانے پر حاضر ہو تو انہوں نے عرض کی کہا کہ آئندہ ایسا ہی ہو گا۔
دوسری حدیث شریف میں ہے کہ:
حضرت ابی بن کعبؓ نماز پڑھتے تھے آپﷺ نے انہیں پکارا انہوں نے جلدی نماز تمام کر کے سلام عرض کیا آپﷺ نے فرمایا تمہیں جواب دینے سے کیا بات مانع ہوئی عرض کیا حضور میں نماز میں تھا آپﷺ نے فرمایا کیا تم نے قرآن پاک میں یہ نہیں پایا کہ اللہ اور رسولﷺ کے بلانے پر حاضر ہو عرض کیا بیشک آئندہ ایسا نہ ہو گا۔
ان احادیث اور آیت قرآنی سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺ کا کائنات میں کیا مقام ہے اس صحابی نے آپﷺ کے بلانے پر نماز ترک نہ کی تو آپﷺ نے آیت قرآنی کا حوالہ دیا۔ اس لئے دین الٰہی سمجھنے کے لئے پہلے مسلمانوں کو آپﷺ کا مقام جو اللہ تعالیٰ بار با قرآن شریف میں فرما رہے ہیں سمجھنا چاہیے۔ اس آیت قرآنی سے ایک اور بات سامنے آتی ہے کہ اسلام کے ارکان جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج ہیں صرف آپﷺ ہی کی وجہ سے ہے اگر آپﷺ نہ ہوتے تو یہ کائنات کا وجود ہی نہ ہوتا اور اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی پہچان بھی آپﷺ ہی کے ذریعہ کرائی ہے آپﷺ کے زمانے میں تمام مذاہب کے لوگ اللہ تعالیٰ کو مختلف طریقے سے پہچانتے تھے اور مختلف طریقے سے عبادت بھی کرتے تھے لیکن آپﷺ کی وجہ سے صحیح طریقہ سے اللہ تعالیٰ کی پہچان ممکن ہوئی ہے لیکن مسلمان کتنا خود غرض ہے کہ رسولﷺ کو چھوڑ کر براہ راست اللہ تک پہنچنا چاہتا ہے جو کہ ممکن نہیں ہے مسلمانوں کو اللہ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے رسول اکرمﷺ کو وسیلہ بنانا ہو گا رسولﷺ کے بغیر اللہ تک رسائی تو درکنار قیامت کے روز آپﷺ کی شفاعت کے بغیر جنت بھی نہیں مل
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں