۳۱ از ۷۱
بدعت کا فتویٰ لگ جاتا ہے حجرہ اسود کو اہمیت اس لیے ہے کہ یہ پتھر اللہ تعالیٰ نے بھجوایا تھا اس کی نسبت اللہ تعالیٰ سے ہو گئی تھی اس لئے یہ پتھر قیمتی ہو گیا کہتے ہیں کہ اِس پتھر کو بوسہ دینے سے گناہ دُھل جاتے ہیں ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح حجرِ اسود کو بوسہ دے دیں یہ بوسہ اللہ تعالیٰ کی نسبت ہونے کی وجہ سے ہے خدانخواستہ اُس پتھر کی پوجا نہیں ہے اَب کسی نیک آدمی یا ولی کی قبر جو پوری کی پوری جنت کا حصہ ہو جاتی ہے تو شیطان اُس قبر پر جانے نہیں دے گا اور فتویٰ بھی لگوائے گا کہ یہ شرک ہے کیونکہ شیطان نہیں چاہے گا کہ کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ کی مہربانی والی جگہ پر جائے۔ کیونکہ کسی ولی کی قبر پر اللہ تعالیٰ کی ہونے والی مہربانی اُس مسلمان پر بھی ہو جاتی ہے جو مسلمان وہاں چلا جاتا ہے غور کریں کہ اُس ولی کی قبر کی نسبت اللہ تعالیٰ سے ہو جاتی ہے اور وہ ولی کی نسبت ویسے بھی اللہ تعالیٰ سے ہوتی ہے کیونکہ ولی اللہ کا دوست ہو جاتا ہے یہ دوستی اللہ سے نسبت ہے احترام لازم ہو جاتا ہے۔ قرآن شریف کی آیت میں آپﷺ کو قبر پر جانے سے منع کیا ہے تو وہ کن کی قبر پر جانے سے منع کیا ہے ان لوگوں کی قبر پر جو منافق تھے اس آیت سے قبروں پر جانا منع نہیں ہے بلکہ آپﷺ کو اس لئے روکا ہے کہ آپﷺ منافقین کی قبروں پر جا کھڑے ہوتے تھے اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں تھا کہ جو لوگ آپﷺ کا پیچھے سے مذاق اُڑاتے تھے آج جب اِن لوگوں کی موت آ چکی ہے اور قبر میں ان پر عذاب شروع ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ کو آپﷺ کے وہاں جانے سے وہ عذاب موخر کرنا پڑ جاتا اور اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا تھا کہ منافقین کی مغفرت ہو جائے لیکن رسول اکرمﷺ کو دیکھے کہ اپنے اُمتی وہ چاہے منافق ہی کیوں ہی نہ ہوں معافی کے لئے منافقین کی قبر پر جاتے تھے کہ شاید آپﷺ کے جانے سے اللہ تعالیٰ معاف کر دے۔ ایک بات سامنے آتی ہے کہ آپﷺ قبرستان جاتے تھے اور قبروں پر جا کر کھڑے بھی ہوتے تھے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں
اور اِن میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اسکی قبر پر کھڑے ہونا بے شک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فاسق ہی مر گئے ۔
سورۃ التوبۃ آیت ۸۴ (پارہ ۱۰)
اس آیت کو پڑھ کر تو اندازہ لگا لیا ہے کہ قبر پر جانا منع ہے لیکن کس کی قبر پر یہ نہیں سوچ رہے ہیں۔ ایک اور آیت دیکھئے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو مسجد میں جانے سے روکا ہے وہ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔