۲ از ۷۱
بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمْ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دنیا کی آبادی آج تقریباً سات اَرب کی ہے اس میں سے تقریباً ایک اَرب کی آبادی مسلمان ہے۔ مسلمانوں کی یہ آبادی مختلف قوموں اور مختلف فرقوں میں بٹ گئی ہے اور مختلف الخیال ہوگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بڑی نعمتوں سے نوازا ہے۔ ایسا شاید ہی کسی اور مذہب کے لوگوں کو نوازا ہوگا لیکن مسلمان اپنے اعمال کی وجہ سے پس ماندہ ممالک میں شمار ہوگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلم ممالک کو دی گئی دنیاوی نعمتوں کا فائدہ دوسرے ممالک نے اُٹھایا اور ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوگئے ہیں۔ اور اب یہ ممالک مسلمان ممالک کو قرضہ فراہم کرتے ہیں۔ مسلمان قرضوں کے بوجھ تلے دبتے چلے جارہے ہیں۔ اور یہ مسلمانوں کے حاکم بن گئے ہیں۔ جو یہ کہتے ہیں مسلمان وہی کرتے ہیں یہ تک نہیں دیکھتے کہ اسلام اِن معاملات میں کیا کہتا ہے۔ غیر مسلم حاکموں نے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے جبکہ خود ہی یہ ممالک مسلمانوں کے شہروں کو جدید اسلحہ اور جدید نظام کے ذریعے بمبارمنٹ کر کے تباہ کررہے ہیں اور نہتے مسلمانوں کو شہید کررہے ہیں لیکن مسلمان بے حس اور بے بس نظر آرہا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں نے اللہ کی رسّی اور حضور ﷺ کی سنتوں کو چھوڑ دیا ہے اگر ہم پہلے کے دور کے مسلمانوں کی فتوحات پر غور کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں نے اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا اور آپؐ کی سنتوں پر عمل پیرا تھے جیسا کہ ایک جنگ میں جب مسلمانوں نے سوچا کہ ہمیں فتح کیوں نہیں مل رہی ہے جبکہ تعداد میں زیادہ بھی ہیں تو مسلمانوں کے سامنے یہ بات آئی کہ شاید ہم نے کوئی سنت چھوڑ دی ہے جب مسلمانوں کو یہ معلوم ہوا کہ انھوں نے مسواک کرنا چھوڑ دیا ہے تو اگلے دن صبح مسلمانوں نے مسواک کرنا شروع کیا تو دشمن گھبرا گئے اور کہا کہ مسلمان اپنے دانت تیز کررہے ہیں میدانِ جنگ چھوڑ کر بھاگ گئے دیکھئے یہ فائدہ ہے سنتوں پر عمل کرنے کا آج کے مسلمانوں نے تقریباً تمام سنتیں چھوڑ دی ہیں اسی لئے آج مسلمان غیر مسلم کے غلام ہو کر رہ گئے ہیں اور مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ چکے ہیں کیونکہ صیہونی طاقتیں مسلمانوں کو متحد ہونے نہیں دیتیں ہیں بلکہ ان کو مختلف فرقوں میں تقسیم کرنے میں مصروف ہے۔ کیونکہ صیہونی طاقتوں کو معلوم ہے کہ اگر یہ مسلمان
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں