۲۹ از ۷۱
دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں
سورۃ الحجرات آیت ۱ اور ۲ (پارہ ۲۶)
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کیلئے کیسی کیسی ہدایتیں دے رہا ہے کہ ایسا نہ کرو ویسا نہ کرو پھر اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں گے اور خبر بھی نہیں ہوگی کہ تمام اعمال ضائع ہو جائیں گے اعمال کیا ہیں اعمال ارکان اسلام ہیں جیسے نماز، روزہ، زکواۃ، حج وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کی شان جگہ جگہ بیان کر رہے ہیں جیسے قرآن میں فرما رہے ہیں۔
بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔
سورۃ المایدۃ آیت ۱۵ (پارہ ۶)
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں روشن کتاب تو قرآن مجید کے متعلق بیان فرمایا ہے اور نور اپنے حبیب ﷺ کے لئے فرمایا ہے۔
اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول ﷺ کا۔
سورۃ نساء آیت ۵۹ (پارہ ۵)
اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی ہے۔
سورۃ الانفال آیت ۱۷ (پارہ ۹)
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کے لئے قران شریف میں جگہ جگہ اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو بھی حکم دے رہے ہیں کہ اے ایمان والو تم بھی اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ کا احترام کرو اور محبت کرو اور اپنے حبیب ﷺ کے متعلق فرمادیا کہ میرے حبیب ﷺ کو کوئی معمولی ہستی نہ سمجھنا ان آیتوں میں یہ تک فرمادیا ہے کہ آپ ﷺ جب بیعت کرتے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ کا ہاتھ نہ سمجھنا بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے پھر فرما رہے ہیں کہ جو مٹی آپ ﷺ نے پھینکی ہے وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی ہے پھر اللہ تعالیٰ کو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے حبیب ﷺ سے اونچی آواز میں بات کرے یہ سب اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب سے محبت کا اظہار ہے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عزت واحترام کی تلقین فرما رہے ہیں اور اگر کوئی مسلمان آپ ﷺ کے روضہ کی جالیوں کو محبت اور احترام سے چومتا ہے یا سلام پیش کرتا ہے تو
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔