۲۷ از ۷۱
حدیث ہے کہ:
تم میں سے کوئی شخص اسوقت تک پورا مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسکو میری محبت اپنے باپ اور اپنی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ نہ ہو۔
(بخاری شریف جلد اول صفہ ۱۱۴)
ایک اور حدیث ہے:
آپ ﷺ نے فرمایا جس میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا مزہ پائے گا ایک تو اللہ اور اسکے رسول کی محبت اسکو سب سے زیادہ ہو دوسرے کسی بندے سے خالص اللہ کیلئے دوستی رکھے پھر کفر میں جانا جب اللہ نے اسکو کفر سے چھڑا دیا اتنا برا سمجھے جیسے آگ میں ڈالا جانا۔
(بخاری شریف جلد اول صفہ ۱۱۵)
یہ سب اللہ اور اسکے حبیب ﷺ اور اسکے چنے ہوے بندوں سے عشق کا درس ہے یعنی اللہ کے لئے آج کے دور میں کسی ولی سے دوستی کی جاتی ہے یا عشق کیا جاتا ہے تو یہ دوستی یا عشق رسول اکرم ﷺ سے ہوتی ہوئی اللہ تعالیٰ تک پہنچے گی اگر یہ بات کی جاتی ہے کہ کسی ولی کا دامن پکڑ لو تو کہا جاتا ہے کہ مجھے اللہ کافی ہے اور آیت قرانی کا حوالہ دیا جاتا ہے جبکہ قرآن میں یہ آیت دو مرتبہ آئی ہے کہ مجھے اللہ کافی ہے ذرا پڑھ کر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ یہ بات کس کو کہہ رہے ہیں۔
پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم (آپ ﷺ) فرمادو کہ مجھے اللہ کافی ہے۔
سورۃ یونس آیت ۱۲۹ (پارہ ۱۱)
اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) اللہ تمہیں کافی ہے۔
سورۃ الانفال آیت ۶۴ (پارہ ۹)
یہ دیکھئے اللہ کافی ہے کس کے لئے کہا لیکن مسلمان کن چکروں میں پڑ کر اپنا ایمان کمزور کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کیلئے رسول کو بھیجا اور کہا۔ لیکن مسلمان شیطانی چکر میں پڑ کر آیت قرآنی کا مطلب اپنی سمجھ کے مطابق سمجھ لیتا ہے اب ذرا سوچئے کہ مسلمان اپنا کوئی بھی عمل یا احکام الٰہی کو اپنی مرضی سے کر کے سرخرو ہوسکتا ہے نہیں ہوسکتا کیوں کہ ارکانِ اسلام ادا کئے بغیر آپ ﷺ کی
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں