۲۴ از ۷۱
القول البدیع کی حدیث (حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے):
آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو مجھ پر درود پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔
نسائی شریف کی حدیث (حضرت انسؓ سے روایت ہے):
آپ ﷺ نے فرمایا جس نے مجھ پر ایک بار درود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں بھیجتا اور اس کے دس گناہ معاف کردیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کردیتا ہے۔
ابوداؤد بیہقی کی حدیث (حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے):
آپ ﷺ نے فرمایا جب مجھ پر کوئی شخص سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح کو واپس فرماتا ہے اور میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجنے میں خود مسلمانوں کا فائدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اُس مسلمان پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے اور دس درجات بلند کرتے ہیں اصل میں شیطان یہ کیسے ہونے دے گا کہ مسلمان پر مہربانی ہو جائے اسی لیے کائنات کا سب سے بڑا وظیفہ جو خود اللہ تعالیٰ کرتا ہو وہ شیطان مختلف دلائل اور وسوسے سے کرنے نہیں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب درود وسلام بھیجنے کا حکم صادر کیا تو ایک عاشق رسول نے درود وسلام پڑھنے کا طریقہ متعارف کرایا اور سلام متعارف کرایا تو شیطان نے یہ خیالات مسلمانوں کے دل میں ڈال دیئے کہ یہ سب شرک اور بدعت ہے یہ اس ولی سے معلوم ہی نہیں کیا کہ اے مسلمان یہ آپ نے کیا کیا پھر وہ جتاتا کہ اِس عمل سے اللہ تعالیٰ اور اسکا حبیب ﷺ کتنا خوش ہوے ہیں۔ اور کیا آپ ﷺ نے اس ولی کو خواب میں مبارک باد نہیں دی ہوگی اور کیا جنت کی بشارت نہیں دی ہوگی بالکل دی ہوگی۔ آپ ﷺ نے پیدائش کا واقعہ جب بھی بیان کیا کھڑے ہو کر بیان کیا۔ کیا تعظیم میں کھڑے ہونا شرک ہے نہیں ایسی بات نہیں ہے جب گھر میں یا کسی جگہ ہمارے بزرگ آتے ہیں کیا ہم اٹھ کر نہیں ملتے ہیں تو کیا شرک ہے۔
مسلم شریف کی حدیث ہے کہ۔
آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اسلام میں نیک طریقہ نکالا اسکو طریقہ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں