۲۳ از ۷۱
بیشک اللہ اور اسکے فرشتے درود وسلام بھیجتے ہیں اس نبی ﷺ پر اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
سورۃ الاحزاب آیت ۵۶ (پارہ ۲۲)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ حکم دے رہے ہیں کہ ایمان والو یعنی اگر تم ایمان والے ہو تو اپنے نبی پر درود وسلام بھیجو میں اور میرے فرشتے بھی درود وسلام بھیجتے ہیں یہ واحد عمل ہے جو اللہ تعالیٰ خود کرتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی یہی عمل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ درود وسلام بھیجے وہ تو خود مالک ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو اپنا حبیب بنایا ہے جب حبیب بنایا ہے تو حبیب محبوب کہلاتا ہے اور محبوب ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے تو سوچئے کہ آپ ﷺ کائنات کی کتنی بڑی اور عظیم ہستی ہیں اور مسلمان کتنے خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو اس کائنات کا مالک ہے اور اس کائنات میں جس ہستی کو حبیب کہتے ہیں اور وہ ہستی تمام انبیاء کی سردار ہے رحمت اللعلمین ہیں (تمام عالم کے وہ چاہے زمین پر ہو یا زمین کے اندر یا آسمان پر یا کسی سیارے پر غرض کہ کہیں بھی کوئی مخلوق بستی ہو سب کے لئے رحمت ہیں اور جہاں جہاں اللہ تعالیٰ موجود ہے وہاں آپ ﷺ کی رحمت بھی موجود ہے) ہم مسلمانوں کو اس ہستی کا امتی بنایا ہے مسلمان اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ شکر ادا کرنا تو درکنار اللہ تعالیٰ کے درود وسلام کے حکم کی تابعداری ہی نہیں کرتے ہیں۔ شرک اور بدعت کے چکر سے باہر آنا پڑے گا شرک اور بدعت کا چکر یا خیال یہ سب شیطانی خیالات ہیں۔
مسلم کی حدیث ہے کہ (ابوہریرہؓ سے روایت ہے):
جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا۔
ایک اور ترمذی کی حدیث ہے کہ:
بخیل وہ ہے جسکے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ درود نہ بھیجے۔
ترمذی کی حدیث (حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے):
آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے روز وہ شخص میرے سب سے قریب ہوگا جس نے مجھ پر اکثر درود پاک پڑھا ہوگا۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں