۲۱ از ۷۱
محبوب رکھتا ہے سب اسکو محبوب رکھیں تو آسمان والے اسکو محبوب رکھتے ہیں پھر زمین میں اسکی مقبولیت عام کردی جاتی ہے۔
جو لوگ اولیاء کرام کو نہیں مانتے انکی پیروی نہیں کرتے انکو برا بھلا کہتے ہیں وہ لوگ قرآن کے اور آپ ﷺ کی اِس حدیث کے منکر ٹھہرے اور یہ لوگ بہت خسارے میں ہیں اور گناہ کبیرہ کے مرتکب ٹھہرے اسی لیے کسی بات کو کہنے کے لیے بولنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور دین سمجھنے کے لیے سچے دل سے دعا کریں کیونکہ ذرا سی غلطی سے انسان گناہ گار بن جاتا ہے اور بہت سارے لوگ جو اسکی تقلید کرتے ہیں انکا گناہ بھی اس کو ملے گا کیونکہ شیطانی خیالات اور باتیں بہت جلدی لوگوں کو متاثر کرتی ہیں جب کہ دین کی باتیں جلدی متاثر نہیں کرتی ہیں اور شیطانی بات بہت جلد عام ہو جائے گی دین کی صحیح بات شیطان تسلیم کرنے نہیں دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
بے شک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے۔
سورۃ یوسف آیت ۵ (پارہ ۱۲)
شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے وہ کیونکر صحیح بات تسلیم کرنے دے گا جیسے آپ ﷺ نے جب پہاڑی پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اگر میں کہوں کہ اَس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے والا ہے تو تم لوگ مان لو گے تو سب نے کہا بے شک آپ ﷺ صادق اور امین ہیں ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں لیکن جب آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ ایک اللہ کو مانو اور جھوٹے خداؤں کو چھوڑ دو تو اہل مکہ نے یہ بات نہیں مانی کیونکہ شیطان یہ بات کیسے تسلیم کرنے دے گا کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے پھر شیطان انسان کو کیسے بے بس کر دیتا ہے کفار کے دل میں یہ ڈالدیا کہ ہم اپنے باپ دادا کے دین کو کیسے چھوڑ دیں۔ اس بات کو شیطان انسان کے دل میں ایسے بیٹھا دیتا ہے کہ مرتے دم تک یہ بات انسان تسلیم نہیں کرتا اور کافر ہی مرجاتا ہے یہی شیطان کی جیت ہے۔ اَب دیکھے آج کل کے زمانے میں اولیاء کرام ہی وہ لوگ ہیں جو اسوقت آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کے صحیح رکھوالے اور پیروکار اور صحیح عالم ہیں اور آل رسول ﷺ ہیں جنکے ذریعے اللہ تعالیٰ کرامات بھی رونما کرتے ہیں اور کر رہے ہیں لیکن شیطان دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے اور انسان بے بس ہو جاتا ہے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں