۲۰ از ۷۱
مانتے ہیں لیکن قرآن میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں
تو کیسی ہوگی جب ہم ہر اُمت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہباں بنا کر لائیں۔
سورۃ النساء آیت ۴۱ (پارہ ۵)
اللہ تعالیٰ اِس آیت میں فرما رہے ہیں کہ ہر اُمت پر ایک گواہ بنایا ہے ہر اُمت کے گواہ اُس اُمت کے نبی کو بنایا ہے اور تمام اُمت پر آپ ﷺ کو گواہ اور نگہباں بنایا ہے اب آپ سوچئے کہ گواہ وہی ہوتا ہے جسکے سامنے واقعہ پیش آیا ہو پہلی تمام اُمتوں پر اور آپ ﷺ کے پردہ کرنے کے بعد کے تمام لوگوں پر آپ ﷺ کو گواہ بنایا ہے اسی لئے آپ ﷺ حاضر ناظر ہیں جو آپ ﷺ کو حاضر ناظر نہیں مانتا ہے تو وہ اِس آیت کا منکر ٹھہرا اور وہ آدمی گناہ گار بھی ہوا اور اسکے اعمال بھی ختم ہو گئے۔
بہت سارے لوگ اولیاء کرام کو مانتے تو ہیں لیکن اولیاء کرام کے طرزِ زندگی پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں یہ نہیں دیکھتے اور سوچتے ہیں کہ یہ اولیاء کرام جو عمل کرتے ہیں ہمیں بھی [ناخواندہ]ہی عمل کرنا چاہیے لیکن شیطان مسلمانوں کے ذہن میں ڈالتا ہے کہ یہ سب شرک ہے۔ بدعت ہے اور فتویٰ تک دلاتا ہے یہ لوگ خسارے میں ہیں اگر یہ سب غلط ہوتا تو اللہ کا انعام وکرام جاری وساری نہیں ہوتا یہ لوگ اللہ کے دوست نہیں کہلاتے کیونکہ اللہ تعالیٰ جب کسی ولی سے دنیاوی یا دینی فیض جاری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی لوگوں میں انکو مقبول کرتا ہے جیسے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
بیشک وہ جو ایمان لاے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمٰن محبت کردے گا۔
سورۃ طہ آیت ۹۷ (پارہ ۱۶)
محبت کردیگا سے مراد یعنی اپنا دوست اور اپنا محبوب بنائے گا اور اپنے بندوں کے دل میں ان کی محبت ڈالدے گا۔
بخاری ومسلم کی حدیث ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو محبوب کرتا ہے تو جبرائیلؑ سے فرماتا ہے کہ فلانا میرا محبوب ہے جبرائیلؑ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر حضرت جبرائیلؑ آسمانوں پر ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں کو
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔