۱۹ از ۷۱
نے فرمایا کہ ہم شہیدوں کو روزی بھی دیتے ہیں۔
اور جو اللہ کی راہ میں مارے گے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں شاد ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اور خوشیاں منا رہے ہیں اپنے پچھلوں کی جو ابھی ان سے نہ ملے کہ ان پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ کچھ غم خوشیاں مناتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل کی اور یہ کہ اللہ ضائع نہیں کرتا اجر مسلمانوں کا۔
سورۃ ال عمران آیت ۱۷۰۔۱۷۱ (پارہ ۴)
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے امتیوں کے شہیدوں کو زندہ فرمایا ہے اور رزق بھی دیتا ہے تو یہ مسلمانوں کا ایمان ہونا چاہیے کہ آپ ﷺ اور تمام امامین، صحابہ کرام اور تمام اولیا کرام سب زندہ ہیں یہ مسلمانوں کو خبر نہیں ہے اس لیے انعام وکرام والے لوگوں کی آنکھیں روشن ہونے کی وجہ سے تمام دنیا سے رخصت ہونے والے لوگوں کا دیدار کرتے ہیں دیدار کیساتھ بات چیت بھی ممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہیں مردہ نہ کہو کیونکہ دنیا سے رخصت ہونے والے کا جسم تو خاک میں مل جاتا ہے لیکن روح کے طور پر زندہ وجاوداں ہوتے ہیں زندہ انسان جس طرح کام کرتے ہیں اور بولتے ہیں چلتے ہیں یہ تمام نیک ارواح بھی ویسے ہی زندہ ہیں اس پر شک نہیں کرنا چاہیے شک کرنے والا قران سے منکر کہلائے گا کیونکہ قرآن نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ انکو مردہ نہ کہو ہم اِن کو رزق دیتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انکو روزی کس قسم کی دیتے ہیں علم والے لوگ (اولیاء کرام) جنکی ہمیں پیروی کرنی چاہیے ان کو اپنا رہبر بنانا چاہیے وہ اس بات پر اٹل ہیں کہ آپ ﷺ اور تمام امامین، صحابہ کرام حاضر ناضر ہیں وہ اپنا دیدار کراتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اتنی طاقت عطا کی ہے وہ بات چیت بھی کر سکتے ہیں اور ہدایت بھی دے سکتے ہیں اور اولیاء کرام کو کسی استاد کی ضرورت نہیں پڑتی ہے وہ (ڈائریکٹ) براہ راست رابطہ کر کے ہدایت لے سکتے ہیں اسی لیے یہی انعام والے لوگ جنکی آنکھیں اللہ روشن کرتے ہیں جیسے قرآن میں بیان کیا ہے جو پہلے ذکر کر دیا گیا ہے یہ اللہ کا انعام وکرام ہے اِسی انعام وکرام سے اللہ کے دوستوں میں شمار ہو جاتے ہیں اور آپ ﷺ کے دیدار سے مستفید ہوتے ہیں۔ لوگ آپ ﷺ کو حاضر ناظر ہی نہیں
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں