۱۸ از ۷۱
ہیں تو آپ ﷺ کی فرمانبرداری کرنا ہوگی اور آپ ﷺ کی تابعداری کرنا ہوگی آپ ﷺ سے محبت کرنا ہوگی۔
بخاری ومسلم کی حدیث ہے کہ جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور ڈر والوں کا دوست اللہ یہ لوگوں کی آنکھیں کھولتا ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت ورحمت۔
سورۃ الجاثیہ آیت ۱۹ کا آخر (پارہ ۲۵)
اس آیت میں انکھیں کھولنے سے مراد امور دین میں بینائی حاصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی انعام وکرام کے طور پر آنکھیں کھولتا ہے اور اللہ کی بنائی ہوئی خوبصورت دنیا کے چھپے ہوئے راز افشاء ہو جاتے ہیں دین کی رہنمائی حاصل ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ اور اسکے حبیب اور بہت ساری ہستیوں کا دیدار نصیب ہو جاتا ہے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہوتا ہے تو اسکا دیدار ممکن کیسے لیکن اللہ تعالیٰ قرآن میں فرما رہے ہیں۔
اور جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں۔
سورہ البقرۃ آیت ۱۵۴ (پارہ ۴)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے جانے والے لوگوں کو مردہ نہیں کہا جائے حضور ﷺ کے اُمتیوں کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو تو کیا آپ ﷺ نعوذ باللہ زندہ نہیں ہیں سوچنا چاہیے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ کے اُمتی تو مردہ نہیں ہیں آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام تمام امامین اور اولیا کرام کو مردہ تصور کرتے ہیں بالکل غلط ہے۔ اسطرح بھی غور کیا جاسکتا ہے کہ معراج کی شب آپ ﷺ نے مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی جبکہ تمام انبیاء کرام پردہ کر چکے تھے لیکن وہ تمام کے تمام مسجد اقصیٰ میں موجود تھے اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیاء کرام زندہ ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں اب سوچئے کے تمام انبیاء کرام کے امام کیسے نعوذ باللہ زندہ نہیں ہوسکتے، غور طلب بات ہے کہ جب تمام انبیاء کرام مسجد اقصیٰ آسکتے ہیں تو آپ ﷺ کیوں نہیں آسکتے۔ یہ تمام حضرات اور حبیب ﷺ خدا زندہ ہیں جب وہ زندہ ہیں تو اللہ رزق بھی دیتا ہوگا۔ چلتے پھرتے بھی ہوں گے۔ کام بھی کرتے ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں