۱۷ از ۷۱
سورۃ یونس آیت ۶۲ سے ۶۴ (پارہ ۱۱)
ولی کی اصل ولاء سے ہے جو قرب ونصرت کے معنی میں ہے ولی اللہ وہ ہے جو فرائض سے قرب الٰہی حاصل کرے اور اطاعت الٰہی میں مشغول رہے اور اسکا دل نور جلال الٰہی کی معرفت میں مستغرق ہو جب دیکھے دلائل قدرت الٰہی کو دیکھے اور جب سنے تو اللہ کی آیتیں سنے اور جب بولے تو اپنے رب کی ثناء ہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے اطاعت الٰہی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اِسی اَمر میں کوشش کرے جو ذریعہ قرب الٰہی ہو اور اللہ کے ذکر سے نہ تھکے اور دل کی آنکھوں سے اللہ کے سوا کسی کو نہ دیکھے یہ صفت اولیاء کرام کی ہے بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ اسکا ولی وناصر اور معین ومددگار ہوتا ہے۔
مسلم شریف کی حدیث ہے کہ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا اس شخص کے لیے کیا ارشاد فرماتے ہیں جو نیک عمل کرتا ہے اور لوگ اسکی تعریف کرتے ہیں فرمایا یہ مومن کی لیئے بشارت عاجلہ ہے۔ علماء کرام فرماتے ہیں بشارت عاجلہ رضائے الٰہی اور اللہ کی محبت فرمانے اور خلق کے دل میں محبت ڈال دینے کی دلیل ہے۔
(قرآن کے صفحہ ۳۴۵)
اللہ تعالیٰ قرآن میں مختلف جگھوں پر اپنی دوستی کے لیے فرماتے ہیں۔
ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔
سورۃ حم السجدہ آیت ۳۱ (پارہ ۲۴)
اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر۔
سورۃ آل عمران آیت ۳۱ سے ۳۲ (پارہ ۳)
یہاں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ سے فرماتے ہیں کہ اگر مسلمان اللہ تعالیٰ کے دوست بنا چاہتے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں