۱۶ از ۷۱
شمس تبریز کی غلامی اختیار نہ کرتا۔ اَب دیکھیے کہ مولانا روم کے پاس جو علم تھا وہ صرف کتاب کا علم تھا لیکن شاہ شمس تبریزؒ کے پاس جو علم تھا وہ اللہ کا عطا کردہ علم تھا یہ علم اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو دیتا ہے یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اصل عالم کون ہیں اور علم کیا ہے اللہ تعالیٰ نے دین کا علم اپنے حبیب سے وراثتاً منتقل کرتے ہوئے اولیاء کرام تک پہنچایا اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہی لوگوں کو دین کی سمجھ عطا کی۔
جسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں سمجھ والوں کے لیئے۔
سورۃ الاانعام آیت ۹۸ (پارہ ۷)
اس آیت قرآنی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن سمجھنا ہر آدمی کے بس میں نہیں ہے بلکہ جب تک اللہ تعالیٰ اسکو سمجھنے کا علم عطا نہیں کریں گے اُسوقت تک قرآن کی آیتیں سمجھ نہیں آئیں گی یہی وجہ ہے کہ مختلف لوگوں نے قرآن کی مختلف تشریح بیان کی ہیں ایک سمجھنے والے نے کچھ اور دوسرے سمجھنے والے نے کچھ اور تشریح بیان کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جسکو علم عطا کیا ہے وہ صحیح تشریح بیان کرتا ہے اور لکھتا ہے اسی لیئے دین سمجھنے کے لیے اصلی علم والے لوگوں کو رہبر بنانا ہوگا اور اس کتاب میں بیان کردیا ہے کہ علم کیا اور علم والے لوگ کون ہیں شیطان اس راستے پر چلنے نہیں دے گا یہ بات قابل غور ہے کہ چور وہیں آئے گا جہاں مال ہوگا وہاں نہیں جائے گا جہاں مال نہیں ہوگا اسی طرح شیطان بھی وہیں جائے گا جہاں دین کا معاملہ ہوگا اور شیطان کا وہاں کیا کام جہاں دین کا معاملہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ تو پہلے شیطان کے دوست ہو گئے ہیں لہذا اللہ تعالیٰ کے دوست بننے کے لئے اللہ کے دوستوں کو تلاش کرنا ہوگا۔ اللہ کے دوست آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام وکرام کا سلسلہ جاری وساری رکھا ہے۔
سن لو بے شک اللہ کے ولیوں (دوستوں) پر کچھ خوف ہے نہ کچھ غم ہو جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں