۱۵ از ۷۱
کرام ہی ہیں کیونکہ انہی لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کا انعام وکرام موجود ہے انہیں کتابوں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے اِس بات کی تصدیق اِس واقعہ سے ہوتی ہے جو یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔
حضرت مولانا روم مسلمانوں کے بہت بڑے عالم وفاضل ہیں انہوں نے مشہور کتاب مثنوی مولانا روم لکھی ہے مولانا روم نے جب یہ کتاب لکھی تو مولانا کو خیال آیا کہ اِس کتاب کو کس کو دکھاؤں میرا تو کوئی رہبر یا مرشد نہیں ہے ایک رات مولانا کو بشارت ہوئی کہ فجر کے وقت شہر سے باہر جاؤ اور شہر کے دروازے کے باہر جو پہلا شخص نظر آئے وہ تمہارا مرشد ہے اس کو یہ کتاب دکھانا۔ مولانا نے ایسا ہی کیا صبح فجر کے وقت شہر سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک شخص تالاب کے کنارے بیٹھا ہے اور پانی سے کھیل رہا ہے۔ مولانا کے دل میں خیال گذرا یہ میرا مرشد ہرگز نہیں ہو سکتا ہے اور واپس آگئے۔ دوسری رات پھر یہی بشارت ہوئی تو مولانا پھر شہر سے باہر گئے پھر وہی شخص نظر آیا اور وہ اُسی طرح پانی کے کنارے بیٹھا پانی سے کھیل رہا تھا مولانا پھر واپس آگئے تیسری رات پھر یہی بشارت ہوئی تو مولانا پھر شہر سے باہر گئے تو دیکھا کہ وہی شخص اُسی طرح بیٹھا ہے اور پانی سے کھیل رہا تھا مولانا اُنہیں دیکھ کر واپس پلٹے تو اُس شخص نے آواز دی کہ مولوی دو دِن سے دیکھ رہا ہوں تو مجھے دیکھتا ہے اور واپس چلا جاتا ہے کیا بات ہے مولانا قریب آئے تو اُس شخص نے پوچھا کہ یہ بغل میں کیا ہے مولانا نے کہا کہ یہ کتاب میں نے لکھی ہے اور اِس میں میری زندگی کا کل علم ہے اور یہ ایک بہت قیمتی علم کا ذخیرہ ہے۔ اُس شخص نے کتاب دیکھنے کو مانگی اور کتاب لے کر پانی میں پھینک دی اَب تو مولانا کو بہت غصہ آیا اور غصے سے چلا کر کہا دیوانے تو نے یہ کیا کیا زندگی بھر کی کمائی تمام علم تو نے پانی میں پھینک دیا اسکے بغیر تو میں کچھ نہیں ہوں۔ وہ شخص مسکرائے اور پانی میں ہاتھ ڈال کر وہ کتاب جو کہ سوکھی تھی مولانا کے حوالے کر دی اور کہا یہ پکڑ اپنا علم مولانا بہت حیران ہوئے کہ یہ تو وہی کتاب ہے جو قلم سے لکھی گئی تھی یہ شخص حضرت شمش تبریزؒ تھے پھر مولانا نے انکو اپنا مرشد بنایا اور مولانا نے مثنوی کی ابتدا اِس شعر سے کی۔
یعنی مولانا نے کہا کہ مولانا روم اُس وقت تک مولانا روم نہیں بن سکتا تھا جب تک شاہ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں