۱۳ از ۷۱
عنکبوت میں) اب مثالوں کو وہی سمجھتے ہیں جو علم والے ہیں۔
بخاری شریف جلد اول صفہ نمبر ۱۳۸۔۱۳۷
آپؐ نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ (دین کا) علم اُٹھ جائے گا اور جہالت جم جائے گی اور شراب (کثرت) سے پی جائیگی زنا علانیہ ہوگا۔
بخاری شریف جلد اول صفہ نمبر ۱۴۳
آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو تلاش علم میں نکلا وہ واپسی تک راہ خدائے ذوالجلال میں ہے۔
ترمذی صفحہ ۸۹
آپؐ کا ارشاد ہے کہ علم حاصل کرنے کے لئے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے جاؤ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جگہ جگہ علم کے متعلق بتایا ہے اور عالم لوگ کون ہیں جن سے علم دین سیکھنا ہے آپؐ نے بھی علم کے متعلق کافی بتایا ہے جسے پہلے حدیث بیان کی گئی ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دودھ کا پیالا لایا گیا ہے اتنا دودھ پیا کہ آپؐ کے ناخنوں میں تراوٹ دکھائی دینے لگی پھر آپؐ نے بتایا کہ یہ علم ہے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو عطا کیا اتنا عطا کیا ہے کہ آپؐ کے ناخنوں میں تراوٹ محسوس ہوئی پھر آپؐ نے بچا ہوا دودھ حضرت عمرؓ کو دیا اسکا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کے پاس سے کچھ علم حضرت عمرؓ کو منتقل ہوا ہے آپؐ کا علم تمام پیغمبروں کو عطا کردہ علم سے کہیں زیادہ ہے یہ وہی مہربانی ہے جیسی سورۃ فاتحہ میں ذکر ہے جس میں دعا ہے کہ اللہ ان کے راستے پر چلا جن پر تو نے احسان کیا یا انعام وکرام دیا۔ اگر غور کریں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے عالم یا رہبر حضرت محمدؐ ہی ہیں اور مسلمانوں کو چاہیئے کہ اگر وہ سیدھا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا انعام وکرام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپؐ کو اپنا رہبر بنانا ہو گا۔ اور پھر آپؐ سے رہبری حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آل رسولؐ کا گھرانا وہ بھی علم والا تلاش کرنا ہو گا کیونکہ آپؐ نے آخری خطبہ میں فرمایا ہے۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں