۱۲ از ۷۱
سورۃ الانبیاء آیت ۷ (پارہ ۱۷)
اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں اور ان کے درباریوں کو علم سے مالا مال کیا تھا تو کیا حبیبؐ خدا کو خالی بھیجا تھا ایسی بات نہ تھی بلکہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے علم کا جو خزانہ عطا کیا تھا وہ کسی پیغمبر کو میسر نہ تھا آپؐ نے حج کے موقع پر فرمایا تھا کہ ۔
میں علم کا شہر ہوں اور علی دروازہ ہے۔
کوئی بھی اندازہ نہیں کر سکتا ہے کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے کتنا علم عطا کیا ہے کیونکہ آپؐ فرما رہے ہیں کہ میں علم کا شہر ہوں لیکن آپؐ عاجزی وانکساری سے دنیا کے سامنے رہے اگر آپؐ چاہتے تو کیا کچھ نہیں کر سکتے تھے آپؐ کے ایک اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے تھے لیکن آپؐ نے صبر واستقامت کے ساتھ ہر مصیبت کو برداشت کیا اور کبھی کسی کے لئے بد دعاء بھی نہیں کی ہے بلکہ آپؐ نے اُمت کے لئے دعا ہی کی ہے۔ اور آپؐ کی حیات طیبہ کا ہر عمل عالم انسانیت کے لئے اعلیٰ نمونہ ہے۔ آپؐ عالم انسانیت کے لئے سب سے بڑے عالم ہیں اور سب سے بڑے رہبر ہیں آپؐ نے علم کا راستہ اختیار کرنے اور علم کے متعلق جو باتیں بیان کی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
آپؐ نے فرمایا ایک بار میں سو رہا تھا میرے سامنے دودھ کا پیالا لایا گیا میں نے پی لیا (اتنا چھک کر پیا) کہ میرے ناخنوں پر تازگی (تراوٹ) دکھائی دینے لگی پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمرؓ کو دے دیا لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہؐ اسکی تعبیر کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا علم۔
بخاری شریف جلد اول صفہ ۱۴۲
عالم لوگ ہی پیغمبروں کے وارث ہیں پیغمبروں نے علم ترکہ چھوڑا پھر جس نے علم حاصل کیا اسنے پورا حصہ (اس ترکہ کا) لیا حدیث میں ہے جو کوئی علم حاصل کرنے کے لئے رستہ چلے تو اللہ اسکے بہشت کا رستہ آسان کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (سورۃ فاطر میں) خدا سے اسکے وہی بندے ڈرتے ہیں جو عالم ہیں اور فرمایا (سورۃ
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں