۱۱ از ۷۱
جواب دوں گا ایک شخص نے دریافت کیا میرا انجام کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا جہنم دوسرے نے دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے آپؐ نے اسکے اصلی باپ کا نام بتا دیا جسکے نطفہ سے وہ تھا کہ صداقہ ہے باوجود کہ اسکی ماں کا شوہر کوئی اور تھا اور جسکا بیٹا کہلاتا تھا۔
(شان نزول)۔ (قرآن عظیم صفہ ۱۹۹)
تفسیر احمدی بخاری ومسلم کی حدیث شریف میں ہے کہ ایک روز آپؐ نے خطبہ فرماتے ہوئے فرمایا۔
جو دریافت کرنا ہو تو دریافت کرے عبداللہ بن حذافہ سہمی نے کھڑے ہو کر دریافت کیا میرا باپ کون ہے فرمایا حذافہ پھر آپؐ نے فرمایا اور پوچھو حضرت عمرؓ نے اُٹھ کر اقرار وایمان ورسالت کے ساتھ معذرت پیش کی ابن شہاب کی روایت ہے کہ عبداللہ بن حذافہ کی والدہ نے ان سے شکایات کی اور کہا کہ تو بہت نالائق بیٹا ہے تجھے کیا معلوم کہ زمانہ جاہلیت کہ عورتوں کا کیا حال تھا خدانخواستہ تیری ماں سے کوئی قصور ہوا ہوتا تو آج وہ کیسی رسوا ہوتی اسپر عبداللہ بن حذافہ نے کہا کہ اگر حضورؐ کسی حبشی غلام کو میرا باپ بتا دیتے تو میں یقین کے ساتھ مان لیتا۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ لوگ بطریق استہزاء اس قسم کے سوال کیا کرتے تھے کوئی کہتا میرا باپ کون ہے کوئی پوچھتا میری اونٹنی گم ہوگی ہے وہ کہاں ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
اے ایمان والو ایسی بات نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر انہیں اس وقت پوچھو کے کہ قرآن اتر رہا ہے تو تم پر ظاہر کر دی جائیں گی اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر چکا ہے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا حلم والا ہے۔
سورۃ المایدۃ آیت ۱۰۱۔ (پارہ ۷)
اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو غیب کا علم عطا کیا ہوا تھا اس آیت اور حدیث سے ثابت ہوتا ہے اوپر کی تمام آیتوں اور واقعات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ علم کیا ہے اور عالم لوگ کون ہیں کیونکہ یہی لوگ رہبر ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
اور ہم نے تم سے پہلے نہ بھیجے مگر مرد جنہیں ہم وحی کرتے تو اے لوگو علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو۔
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں