۸۲ از ۱۰۰
سے حضورؒ کے دفتر پہنچا۔ حضور پاکؒ اپنے دفتر میں کُرسی پر تشریف فرما تھے حضور پاکؒ نے ارشاد فرمایا کیسے آنا ہُوا۔ میں نے عرض کی آپ کی زیارت کے لیے آیا ہُوں اس طرح میرا حضورؒ کے پاس جانا آنا ہو گیا۔ اور میں حضور پاکؒ کا بیعت ہو گیا۔ میرے قریب ایک سِکھ رہتا تھا جس کی بیوی کو اسیبی اثرات تھے اُس کو میں لے کر حضورؒ کے پاس حاضر ہُوا حضورؒ نے سکھ کو فرمایا کہ آئندہ تیری بیوی کو اسیبی اثرات نہ ہوں گے حضورؒ سرکارِ عالی کے ارشادِ پاک کے بعد سِکھ کی بیوی اسیبی اثرات سے نجات پا گئی سِکھ میرے ساتھ حضور کی خدمت میں حاضر ہُوا اور اس نے کہا کہ آپ نے میری بیوی کو اسیبی اثرات سے ٹھیک کیا ہے۔ آپ کے پاس شکریہ ادا کرنے کے لیے آیا ہُوں۔
خلیفہ ملک محمد رفیق حسین صاحب بیان کرتے ہیں ۱۹۵۱ء میں سخت بیمار ہو گیا۔ ملک صاحب کی بیوی بیان کرتی ہے کہ وُہ مر چُکے تھے اور میں نے کپڑے سے ان کا مُنہ باندھ دیا تھا۔ جو تقریباً دو گھنٹے تک بندھا رہا جس کے بعد جسم میں حرکت پیدا ہو گئی اور سانس جاری ہو گیا۔ ملک صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس عرصہ کے دوران یہ دیکھا کہ بہُت وسیع اور خوبصورت محل نظر آیا جس کے درمیانی کمرہ میں ایک چبوترہ بنا ہُوا ہے۔ جس پر بہُت ملائم بستر بچھا ہوا اور اس پر بیٹھا ہُوا تھا۔
کمرہ کی دیواروں پر رنگ برنگ پھُول لگے ہُوئے تھے۔ جن میں سے ایک پھُول نے شعلہ مارا اور شعلہ میں سے سوال پیدا ہوا جس کا میں نے جواب دیا۔ یکے بعد دیگرے ہر پھُول سے شعلہ نکلتا رہا اور میں جواب دیتا رہا اس طور پر ایک سو ایک سوالات ہُوئے جن کے میں نے جوابات دیے۔ بعدہٗ میری رُوح نے اپنے جسم کو محسوس کیا۔ یہ جسمانی بیہوشی تین ایّام تک مسلسل جاری رہی جس کے بعد مجھے کچھ ہوش آیا۔ مگر یہ مکمل ہوش نہ تھا۔ جس کے دوران مجھے حضور سرکارِ عالی محبوبِ ذات نظر آئے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں