۸۱ از ۱۰۰
پار سے گزرا اور دُوسرا حصّہ پکّی سڑک کے پار جنوب کی طرف سے گزرا اور یہاں پر معمولی ہوا تھی۔ بعد میں معلوم ہُوا کہ آندھی جہاں سے گزری ہے اس نے بڑے بڑے تن آور درخت جڑ سے اکھاڑ دیے تھے۔
صُوفی اسمٰعیل صاحب گوجرانوالہ کے بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس ۱۹۵۲ء میں ایک ٹی بی کا مریض آیا جسکا رنگ زرد تھا اور اس کو ہسپتال سے ڈاکٹروں نے لاعلاج کر کے خارج کر دیا تھا۔ اِس ٹی بی کے مریض کو میں لیکر دربار شریف آیا اور حضور پاکؒ کی خدمت میں پیش کیا۔ حضور عالیؒ نے ربّ العزّت کے حضور دُعا مانگی جِس کا اثر اس ٹی بی کے مریض پر آنِ واحد میں ہُوا اور وُہ بالکل تندرست ہو گیا۔
صُوفی صاحب ایک واقعہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ میں ایک افیمی کو لے کر آیا اور حضور عالیؒ کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا۔ حضور پاکؒ نے اس کے حق میں دُعا فرمائی۔ دُعا کے اثر سے وُہ افیم کھانے کی بُری عادت سے نجات پا گیا۔
ماسٹر عنایت اللہ صاحب ترگہ والے بیان کرتے ہیں کہ میرے دوست ذیلدار نصر اللہ خان پنڈی بھاگو تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ کے رہنے والے میرے ساتھ بغرضِ اولاد دُعا کے لیے آئے میں نے حضورِ عالیؒ کی خدمتِ اقدس میں پیش کیا۔ حضور سرکارِ عالیؒ نے دُعا فرمائی اور اس کو اللہ تعاظم و تعالیٰ نے نہایت خوبصورت لڑکا عطا فرمایا وُہ شکریہ کے طور پر ۵۰۰۰ ہزار روپیہ نقد اور پارچہ جات لے کر حضورؒ کی خدمت میں حاضر ہُوا۔ حضور پاکؒ نے یہ سب سامان واپس کرتے ہُوئے فرمایا۔ کہ فقیر بادشاہ ہوتا ہے یہ تمام سامان اپنے گھر جا کر غریبوں مسکینوں میں تقسیم کر دینا۔
خلیفہ حافظ تجمل حسین الٰہ آباد کے بیان کرتے ہیں کہ حضور سرکارِ عالیؒ ۱۹۳۴ء میں الٰہ آباد میں وزیر علی شاہ کی فرم میں جنرل منیجر تھے۔ میں ایک یوم ڈرائیور کی وساطت
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں