۸۳ از ۱۰۰
اس سے قبل میں اس ہستی سے واقف نہ تھا۔ حضورِ عالی نے ارشاد فرمایا کہ ملک صاحب آپ ہمارے [ناخواندہ] آپ میرے پاس منڈیر سیّداں سیالکوٹ میں آ جائیں مجھے حضور عالیؒ نے دربارِ شاہی کا نقشہ بھی دکھایا چنانچہ اسکے بعد میں نے جلدی صحت یاب ہو کر دربار شریف حضورِ عالی کی خدمتِ اقدس میں پہنچ کر شرفِ بیعت حاصل کیا۔ یہ تھوڑی کرم نوازی ہے حضور کی کہ مجھے موت کے مُنہ سے نکال دوبارہ زندگی دی اور اپنی غلامی میں قبول فرمایا۔ شرفِ بیعت کے بعد مجھے رات کو خواب میں ایک دودھیا رنگ کی پلیٹ نظر آئی جس پر سُنہرے رنگ میں پہلے مکمل بسم اللہ شریف پھر کلمہ شریف طیبہ اور آیات قرآنی لکھی تھیں۔
شبیر حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں ۱۴ اپریل ۱۹۵۵ء میں حضورِ عالی سرکار کے ہاں بیعت ہُوا۔ میں اکثر دربار شریف میں ہی رہتا تھا میرے سامنے [ناخواندہ] میں حیدر آباد سے ایک شخص آیا جس نے حضورِ عالی سے عرض کی کہ میں نامرد ہُوں۔ آپ دُعا فرماویں میں صحیح مرد ہو جاؤں حضور سرکارِ عالی نے دُعا فرمائی اور اس شخص کی زبانی کہ وُہ صحیح مرد بن گیا۔
خلیفہ میر حسرت علی شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے دوست خلیفہ علیم الدین صاحب بیان کرتے تھے کہ حضور سرکارِ عالیؒ مُلازمت کے سلسلہ میں الہ باد ۱۹۳۳ء میں تشریف فرما تھے کہ ایک یوم میں آپ کی مُلاقات کے لیے حاضر ہُوا آپ دفتر میں کُرسی پر بیٹھے اپنے دفتر کا کام کر رہے تھے مجھے حضور نے ارشاد فرمایا کہ کُرسی لے کر میرے پاس بیٹھ جاؤ میں نے حکم کی تعمیل کی حضور کے لیے گھر سے چائے کی ایک چینک آئی آپ دفتر کے کام میں مصروف تھے چائے ٹھنڈی ہو گئی میں نے کہا کہ حضور میں چائے گرم کروا لوں آپ نے فرمایا خلیفہ صاحب آپ اپنی پیالی سیدھی کریں
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں