۸۰ از ۱۰۰
تشریف لائے۔ میرے والد محترم امان اللہ صاحب مجھے حضورؒ کی خدمتِ اقدس میں اپنے ہمراہ لیکر آئے اور حضور کے دستِ مُبارک پر بیعت کرایا۔
ایک روز کا ذکر ہے بعد نماز مغرب چند لوگ رمضان شریف کا چاند دیکھ رہے تھے لیکن بادل ہونے کی وجہ سے چاند ہونے کا امکان نہیں تھا اسی دوران ایک مُرید بسم اللہ نامی شخص نے کہا وُہ چاند رہا۔ جب لوگوں نے کہا چاند نہیں ہے بسم اللہ صاحب خاموش ہو گئے۔ سرکارِ عالیؒ بسم اللہ صاحب کے قریب تشریف لائے اور ارشاد فرمایا چاند کہاں ہے بسم اللہ صاحب خاموش رہے سرکارِ عالیؒ نے نظر اُٹھائی اور ارشاد فرمایا۔ وُہ دیکھو چاند۔ اَب سب لوگ صاف صاف چاند دیکھ رہے تھے۔ چاند خُود سامنے آ گیا تھا۔
سُلطان احمد ولد عمر دین صاحب بیان کرتے ہیں۔ کہ ۱۹۳۹ء میں یوم جمعۃ المبارک جُمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے لوگ دربارِ عالیہ میں جمع ہُوئے۔ موسم گرما میں ہوا رُکی ہوئی تھی اس وقت دربار شریف میں بجلی بھی نہیں تھی۔ لوگ گرمی اور حبس کی وجہ سے گھبرا رہے تھے حضورؒ پاک نے ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہوا چلنے کی دُعا فرمائی۔ ہوا چلنا شروع ہو گئی لوگوں نے بڑے آرام سے جُمعہ ادا کیا۔ جو اللہ تعاظم و تعالیٰ کا ولی ہوتا ہے۔ اربعہ عناصر اُسکے تصرّف میں ہوتے ہیں۔
۱۹۵۳ء میں بہُت سخت سُرخ رنگ کی آندھی قبلہ کی جانب سے نمودار ہُوئی اور وُہ بتدریج اُوپر اُٹھتی چلی آ رہی تھی۔ جس کے دیکھنے سے دِل کو ہول آتا تھا۔ حضور سرکارِ عالیؒ اپنی مسندِ پاک پر تشریف فرما تھے۔ لوگوں نے حضور عالیؒ کو عرض کی آپ کمرہ سے باہر تشریف لے آئے اور آندھی کی طرف اپنا رُخ کر کے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہٹ جا اِن الفاظ سے آپ کا دستِ مُبارک اُوپر اُٹھ کر نیچے آیا ہی تھا کہ معاً اُسی لمحہ آندھی پھٹ گئی اور دو حصّوں میں منقسم ہو گئی۔ جس کا ایک حصّہ شمالی نہر کے
یہ متن صفحے کی تصویر سے ٹائپ کیا گیا ہے اور ابھی جانچا نہیں گیا — اس میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اصل صفحہ ہی معتبر ہے۔
صفحہ بدلنے کے لیے دائیں بائیں سوائپ کریں